سیاسی سموگ: لاشیں مل گئیں۔۔۔ تمام کارڈ کس کے ہاتھ میں تھے۔۔؟
مفلسی اور سیاست
موجودہ حالات کے مطابق شعر کا مصرعہ یہ ہونا چاہیے:
مفلسی ”حسِ سیاست“ کو مٹا دیتی ہے
بھوک آداب کے سانچوں میں ڈھل نہیں سکتی
”بھوک“ اختیار، اقتدار کی بھی ہوتی ہے اور ان کا بھی آداب سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔ قریبی تو بالکل نہیں، دور پار کا شاید ہو۔۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا چھوڑنے والے غیرقانونی تارکین وطن کو رقم اور ٹکٹ فراہم کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
ڈی چوک کی صورتحال
اور ڈی چوک پر ”بھوک“ بھی تھی۔۔ جو قیامت کی نظر رکھتے ہیں انہیں دکھائی دی لیکن نہ مری نہ زخمی ہوئی۔
ڈی چوک پر سردی بھی تھی۔۔۔ لیکن دھرتی ماں کو”سیاسی سموگ“ نے لپیٹ میں لے لیا۔۔۔
”ماہرین“ کا دھیان کسی اور طرف ہے۔۔۔
دھواں سرحد پار سے نہیں اندر سے اٹھ رہا ہے۔۔۔
دم گھٹ رہا ہے۔۔۔ سانس لینا بھی محال ہے۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی؛ڈیفنس میں سلمان فاروقی کے تشدد کا نشانہ بننے والا نوجوان اور اس کی فیملی سامنے آ گئی
معاشی نقصانات
بھارت کو سموگ سے سالانہ 95 ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا اور لاکھوں افراد کی جان کو خطرہ ہے جبکہ ہمیں ”سیاسی سموگ“ یعنی احتجاجی مظاہروں، دھرنوں اور لاک ڈاؤن سے روزانہ کی بنیاد پر 200 ارب روپے سے زائد کے نقصان ہو گیا۔ جی ڈی پی کی مد میں 144 ارب، برآمدات 16 ارب اور ٹیکس ریونیو کی مد میں 26 ارب کا نقصان۔
چند دن راستے بند، سامان کی ترسیل بند، منڈیاں بند، صنعتیں بند، کاروبار بند، تاجروں کا کروڑوں کا نقصان۔۔ کروڑوں زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔۔۔۔ پھر بھی ”آوے ای آوے جاوے ای جاوے“ کا ورد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جناح ہاؤس کیس میں ملزم کے خلاف بہت سے شواہد ہیں، ضمانت کا حقدار نہیں، عدالت ضمانت خارج کرے، پراسیکیوٹر کی بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کی مخالفت۔
دھرنے کے نتائج
24 نومبر آئی اور چلی گئی۔۔۔ عوام کی حفاظت ہو نہ ہو، ڈی چوک کی حفاظت ہو گئی۔۔۔ لاشیں بھی مل گئیں۔۔۔ زخمی بھی مل گئے۔۔۔ کسی کو فتح مل گئی۔۔۔ کسی کو ہار میں بھی جیت کا مزہ۔۔۔
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
یہ بھی پڑھیں: کرشمہ کپور کے سابق شوہر سنجے کپور دل کا دورہ پڑنے سے چل بسے
سیاست کا جوڑ توڑ
کئی مر گئے مگر سوال زندہ کر گئے۔۔۔۔
تمام ”کارڈ“ کس کے ہاتھ میں تھے۔۔؟
کون کمزور اور کون طاقتور ثابت ہوا۔۔؟
وہ ”وعدے“ یا”انڈر سٹینڈنگز“ کیا تھیں جن کی بنیاد پر بعض کو رہائی ملی، ”سیاسی لاؤنچنگ“ کا ڈھنڈورا کیوں پیٹا گیا ۔۔۔؟
یہ بھی پڑھیں: خواجہ سلمان رفیق کا محکمہ داخلہ کے سینٹرل کنٹرول روم کا دورہ، مرکزی جلوسوں و مجالس کی لائیو مانیٹرنگ، بریفنگ میں شرکت
احتجاج کی اہمیت
خیبر پختونخوا سے جواب آ گیا ہے۔۔۔ جانے والے ملک سے باہر نہیں گئے، واپس آنے کیلئے گئے ہیں۔۔۔ وہ کہہ رہے ہیں ”تشدد بھی ہم پر ہوں اور مقدمات بھی ہم پر ہوں، ہم بھاگے نہیں، آپ نے جو کرنا تھا کرلیا اب ہماری باری ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: فیم سپورٹس کی فتح کے ساتھ ضلع چیمپئن شپ کے پہلے مرحلے کا اختتام، دوسرے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا
عوام کی رائے
عوام میں غصہ ہے۔۔۔ ابھی ختم نہیں ہوا۔۔۔ الیکشن میں ووٹ ڈالنے بھی نکلے اور ”ہر کال“ پر نکل رہے ہیں۔۔۔ سڑکوں پر ڈنڈا، گالی، گولی سب کھا رہے ہیں۔۔۔ اب کوئی شکوہ یا طعنہ نہیں دے سکتا کہ باہر نہیں نکلتے۔
یہ بھی پڑھیں: رونالڈو نے اپنی گرل فرینڈ جارجینا روڈریگز کے ساتھ منگنی کر لی
سوالات کا ہتھیار
آج کے دور کا اہم ہتھیار”سوال“ ہے جسے پوچھنے کی آزادی چھینی نہیں جا سکتی اور عوام اس ”ہتھیار“ سے لیس ہیں۔۔۔
”فائنل کال“ بھی ابھی ختم نہیں ہوئی۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: منشیات کے مقدمے میں ملزم کی درخواست ضمانت؛ آئی جی پنجاب 11 اپریل کو طلب
پہلا قدم
فیصلہ تو کرنا ہی ہو گا۔۔۔ ملک کو ”جاگیردارانہ جمہوریت“ چاہیے یا اصلی جمہوریت۔۔؟
حبیب جالب کی یاد
آخر میں پھر حبیب جالب یاد آ گئے:
ایسے افکار بھی زندہ نہ ہوں گے جن سے
چند لوگوں ہی کی تسکین کا پہلو نکلے
میں ضرور آؤں گا ایک عہد حسیں کی صورت
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں








