ہماری غلطیوں سے عمران خان کی سختیاں بڑھ رہی ہیں، ذمہ دار مرکزی قیادت ہے: شوکت یوسفزئی
شوکت یوسفزئی کی پارٹی قیادت پر تنقید
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات کے پی شوکت یوسفزئی نے ایک بار پھر اپنی پارٹی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری غلطیوں کی وجہ سے عمران خان کی سختیاں بڑھ رہی ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری مرکزی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار بھارتی ولاگر کے والد کا بیان آگیا
بشریٰ بی بی کا سوال
شوکت یوسفزئی نے اپنے بیان میں کہا کہ بشریٰ بی بی کا شوہر بغیر جرم کے جیل میں ہے، وہ کیوں نہ سڑک پر نکلیں؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقی لیڈر شپ نے کیا کیا؟ مرکزی لیڈر شپ کہاں تھی؟
یہ بھی پڑھیں: گورنر ہاؤس سے ڈراتے ہو، گورنر راج لگانا ہے تو لگاؤ، چیلنج دیتا ہوں : علی امین گنڈا پور کا خیبر پختونخوا اسمبلی سے پھر دبنگ انداز میں خطاب
دھرنے کی اجازت کا معاملہ
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے سنگجانی میں دھرنا دینے کی اجازت دی تو اس پر عمل کیوں نہیں ہوا؟ سیاست کے اندر حالات کو دیکھ کر حکمت عملی بنائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مبینہ ناجائز تعلقات قائم کرنے پر بیٹی نے باپ کو قتل کردیا
موقع ضائع کرنے کا ذکر
شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ہمیں اللہ نے بہت بڑا موقع دیا جو ہم نے ضائع کر دیا، اگر مشاورت کے ساتھ آگے بڑھتے تو آج نتائج کچھ اور ہوتے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر خودکش حملہ: 1935 کے زلزلے کے بعد کی سب سے بڑی تباہی
ذمہ داری کا تعین
انہوں نے کہا کہ ہماری غلطیوں سے بانی پی ٹی آئی کی سختیوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، جو ہوا اس کی تمام تر ذمہ داری پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔
پہلے بھی سوالات اٹھائے جا چکے ہیں
یاد رہے کہ اس سے قبل شوکت یوسفزئی بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجا کی قیادت پر بھی سوال اٹھا چکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران شیر افضل مروت بھی غائب تھے، پنجاب کی قیادت بھی موجود نہیں تھی۔








