آئینی بنچ نے امیدوار کا صرف اپنے حلقہ سے انتخاب لڑنے کو لازمی قرار دینے کی درخواست خارج کردی
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے امیدوار کا صرف اپنے حلقہ سے انتخاب لڑنے کو لازمی قرار دینے کی درخواست خارج کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: عید کے تین دنوں میں ریلوے نے 48کروڑ روپے کما لئے
عدالت کی سماعت
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی، عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: جہلم ویلی حلقہ نمبر 6چکوٹھی اور بیل پٹنگی سے درجنوں افراد جماعت اسلامی میں شامل
وکیل کا مؤقف
دوران سماعت وکیل درخواستگزار نے کہاکہ امیدوار کا ایک سے زائد حلقوں سے انتخاب لڑنا آئین اور قانون کے خلاف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریٹائرمنٹ کی افواہوں پر قومی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹر حارث سہیل کا ردعمل آگیا
ججز کے تبصرے
جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ ہم قانون ختم تو کر سکتے ہیں، نیا نہیں بنا سکتے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ اگر آپ الیکشن ایکٹ چیلنج کرتے ہیں تو الگ بات ہے۔ وکیل درخواستگزار نے کہاکہ ایک شخص ایک ووٹ انتخابات کا بنیادی ڈھانچہ ہے، ایک امیدوار کا مختلف حلقوں سے الیکشن لڑنا مذاق ہے، امیدوار ایسے حلقوں سے بھی الیکشن لڑتے ہیں جہاں اس کا ووٹ بھی نہیں ہوتا۔
قانون کی وضاحت
جسٹس امین الدین نے کہاکہ قانون میں خود کو ووٹ نہ دینا لکھا ہوتا تو آپ کی بات ٹھیک ہوتی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ قانون میں تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کا اس حلقہ سے ہونا لازم ہے، مقننہ نے اجازت دی ہے تو آپ مقننہ کی نیت پر سوال نہیں اٹھا سکتے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہاکہ بہتر ہوگا کہ درخواستگزار سیاسی لیڈرشپ کو قائل کریں۔








