کرے جو تبصرہ کس میں بتاؤ ہمت ہے۔۔۔
شعر کی ابتدائی فضا
کرے جو تبصرہ کس میں بتاؤ ہمت ہے
"کہ اب کی بار مرا قافیہ محبت ہے"
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور تاجکستان میں حملوں کی ذمہ دار افغان حکومت ہے، پاکستان اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا، دفتر خارجہ
محبت کی حقیقت
میں چاہتا بھی یہی تھا وہ بے وفا نکلے
سنا ہے اس کو مری اب نہیں ضرورت ہے
یہ بھی پڑھیں: انڈر ۱۹ ایشیا کپ: پاکستان کا بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
زخموں کی شفا
تمہارے زخم پہ مرہم لگادے آکر جو
زمانے میں کہاں کس کو بتاؤ فرصت ہے
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل میں قیدی طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گیا
خدا کی مشیّت
خدا نے تجھ کو نوازہ نہیں ہے دولت سے
ضرور اس میں مرے رب کی کچھ مشیّت ہے
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے افسران کی ترقیوں کے بعد تقرر و تبادلے کے احکامات جاری کر دیئے
غزل کی اہمیت
غزل کے شعر کو ہم نے لہو سے لکھا ہے
یہی وجہ ہے کہ دنیا میں میری شہرت ہے
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا بھارت کو سندھ طاس معاہدہ کی معطلی پر نوٹس دینے کا فیصلہ
اردو زبان کے عشق
کیا جو کرتے ہیں اردو سے رات دن نفرت
کیوں ان کے دل میں بتاؤ بھری کدورت ہے
یہ بھی پڑھیں: عوام کی سہولت کیلئے مزید سہولت بازار لگائے جائیں، ریلیف صرف نعرہ نہیں، اسے نظر آنا چاہیے : وزیر اعلیٰ مریم نواز
محبت کی تڑپ
جولوگ دل میں محبت کا تیر رکھتے ہیں
گلے سے اُن کو لگانے کی مجھ کو چاہت ہے
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ
قیصر کی خوبصورتی
کہاں سے لاتا ہے قیصر تو فکر کے موتی
تری غزل کے ہر اک شعر میں فصاحت ہے
کلام کا تعارف
کلام :قیصر امام قیصر (گریڈیہ جھار کھنڈ، بھارت)








