کرے جو تبصرہ کس میں بتاؤ ہمت ہے۔۔۔
شعر کی ابتدائی فضا
کرے جو تبصرہ کس میں بتاؤ ہمت ہے
"کہ اب کی بار مرا قافیہ محبت ہے"
یہ بھی پڑھیں: شہری کو دوست سے ملنے تھانے آنا مہنگا پڑ گیا
محبت کی حقیقت
میں چاہتا بھی یہی تھا وہ بے وفا نکلے
سنا ہے اس کو مری اب نہیں ضرورت ہے
یہ بھی پڑھیں: ریسکیو ٹیم موقع پر 15 منٹ میں پہنچ گئی تھی لیکن وقت کم اور پانی کا بہاؤ بہت تیز تھا: ڈی جی ریسکیو کے پی کے
زخموں کی شفا
تمہارے زخم پہ مرہم لگادے آکر جو
زمانے میں کہاں کس کو بتاؤ فرصت ہے
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس طلب، پاکستان کے لیے اگلی قسط کی منظوری کا امکان
خدا کی مشیّت
خدا نے تجھ کو نوازہ نہیں ہے دولت سے
ضرور اس میں مرے رب کی کچھ مشیّت ہے
یہ بھی پڑھیں: سلمان آغا جہاں سے میچ لے کر گئے بہت مشکل تھا، دباؤ کو بالکل قبول نہیں کیا، کامران اکمل
غزل کی اہمیت
غزل کے شعر کو ہم نے لہو سے لکھا ہے
یہی وجہ ہے کہ دنیا میں میری شہرت ہے
یہ بھی پڑھیں: کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کا اجلاس، عیدالاضحیٰ کے حوالے سے اہم فیصلے، میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی میں توسیع
اردو زبان کے عشق
کیا جو کرتے ہیں اردو سے رات دن نفرت
کیوں ان کے دل میں بتاؤ بھری کدورت ہے
یہ بھی پڑھیں: فارم 47 کی حکومت منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو کبھی الیکشن کمیشن ، کبھی جعلی کیسز اور کبھی آئینی عدالتوں ذریعے بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہی ہے،اسد قیصر
محبت کی تڑپ
جولوگ دل میں محبت کا تیر رکھتے ہیں
گلے سے اُن کو لگانے کی مجھ کو چاہت ہے
یہ بھی پڑھیں: کل ڈنڈے کے زور پر قانون سازی کی گئی، اپوزیشن کو بولنے نہیں دیا گیا: عمر ایوب
قیصر کی خوبصورتی
کہاں سے لاتا ہے قیصر تو فکر کے موتی
تری غزل کے ہر اک شعر میں فصاحت ہے
کلام کا تعارف
کلام :قیصر امام قیصر (گریڈیہ جھار کھنڈ، بھارت)








