کرے جو تبصرہ کس میں بتاؤ ہمت ہے۔۔۔
شعر کی ابتدائی فضا
کرے جو تبصرہ کس میں بتاؤ ہمت ہے
"کہ اب کی بار مرا قافیہ محبت ہے"
یہ بھی پڑھیں: امریکی فحش فلموں کی اداکارہ 24 برس کی عمر میں چل بسی
محبت کی حقیقت
میں چاہتا بھی یہی تھا وہ بے وفا نکلے
سنا ہے اس کو مری اب نہیں ضرورت ہے
یہ بھی پڑھیں: پنجاب: صنعتی اور مائنز ورکرز کے بچوں کے لئے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم کا اعلان
زخموں کی شفا
تمہارے زخم پہ مرہم لگادے آکر جو
زمانے میں کہاں کس کو بتاؤ فرصت ہے
یہ بھی پڑھیں: سیلاب سے 20 ارب کا نقصان ہوا، 7 ارب فوری درکار ہیں، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان
خدا کی مشیّت
خدا نے تجھ کو نوازہ نہیں ہے دولت سے
ضرور اس میں مرے رب کی کچھ مشیّت ہے
یہ بھی پڑھیں: یہ کم ظرف شخص جھوٹ بول رہا ہے
غزل کی اہمیت
غزل کے شعر کو ہم نے لہو سے لکھا ہے
یہی وجہ ہے کہ دنیا میں میری شہرت ہے
یہ بھی پڑھیں: ہم تو ٹھنڈے فرش پر سوتے اور جیل کا کھانا کھاتے تھے، عمران خان کو فائو اسٹار ہوٹل سے بہتر کھانا اور سہولیات دستیاب ہیں، خواجہ محمد آصف
اردو زبان کے عشق
کیا جو کرتے ہیں اردو سے رات دن نفرت
کیوں ان کے دل میں بتاؤ بھری کدورت ہے
یہ بھی پڑھیں: بھارتی قومی سلامتی مشیر اجیت دوول چین پہنچ گئے، وزیر خارجہ وانگ یی سے اہم ملاقات
محبت کی تڑپ
جولوگ دل میں محبت کا تیر رکھتے ہیں
گلے سے اُن کو لگانے کی مجھ کو چاہت ہے
یہ بھی پڑھیں: تقرریاں و تبادلے
قیصر کی خوبصورتی
کہاں سے لاتا ہے قیصر تو فکر کے موتی
تری غزل کے ہر اک شعر میں فصاحت ہے
کلام کا تعارف
کلام :قیصر امام قیصر (گریڈیہ جھار کھنڈ، بھارت)








