زخموں کو دیکھ دیکھ کے سوچا کروں گا میں۔۔۔
محبت کی یادوں میں
پہروں تمھاری یاد میں رویا کروں گا میں
اس کے علاوہ اور بھلا کیا کروں گا میں
یہ بھی پڑھیں: کرم میں آگ لگی ہے اور خیبرپختونخوا حکومت غائب ہے، بلاول بھٹو
آشفتگی اور شاعری
آشفتہ سر ہیں جتنے محبت کے شہر میں
ہر شعر ان کے نام پہ لکھا کروں گا میں
یہ بھی پڑھیں: پاکستان 22 جولائی کو کثیر الجہتی تعاون سے متعلق اجلاس کی میزبانی کرے گا: دفتر خارجہ
زخموں کی یاد
کس نے لگایا، کیسے لگا یاد، کچھ نہیں
زخموں کو دیکھ دیکھ کے سوچا کروں گا میں
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی کی تحقیقات کے لیے پاک بھارت مشترکہ فورم بننا چاہیے: بلاول بھٹو
موت کے بعد کی سوچ
مرنے کے بعد دیر تلک دل کے شہر سے
اس کی گلی میں بارہا آیا کروں گا میں
محبت میں ناکامی اور چرچا
جب کچھ نہ کر سکا میں محبت میں تو ندیم
شہرِ جمالِ یار میں چرچا کروں گا میں








