زخموں کو دیکھ دیکھ کے سوچا کروں گا میں۔۔۔
محبت کی یادوں میں
پہروں تمھاری یاد میں رویا کروں گا میں
اس کے علاوہ اور بھلا کیا کروں گا میں
یہ بھی پڑھیں: افسوس کا مقام ہے ہم نے قانون کی حکمرانی کو مذاق بنا دیا مالداروں کے لیے کچھ غریب کے لیے کچھ۔ قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی قوم ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتی
آشفتگی اور شاعری
آشفتہ سر ہیں جتنے محبت کے شہر میں
ہر شعر ان کے نام پہ لکھا کروں گا میں
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانیوں نے ایک ماہ میں 3 ارب 20 کروڑ ڈالر وطن بھیجے
زخموں کی یاد
کس نے لگایا، کیسے لگا یاد، کچھ نہیں
زخموں کو دیکھ دیکھ کے سوچا کروں گا میں
یہ بھی پڑھیں: وزیر تعلیم پنجاب نے سیلاب زدہ علاقوں کے پبلک تعلیمی اداروں کے طلبا کی رجسٹریشن اور فیس معافی کی تجویز وزیراعظم کو بھیجوا دی
موت کے بعد کی سوچ
مرنے کے بعد دیر تلک دل کے شہر سے
اس کی گلی میں بارہا آیا کروں گا میں
محبت میں ناکامی اور چرچا
جب کچھ نہ کر سکا میں محبت میں تو ندیم
شہرِ جمالِ یار میں چرچا کروں گا میں








