جنازے کی تلقین کرکے آنا کس مقصد کیلیے تھا،بانی پی ٹی آئی ڈی چوک میں بند تھے جو وہاں آکر چھڑانا تھا؟ کئی سوالات اٹھ گئے

پی ٹی آئی کی احتجاج پر سوالات
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جنازے کی تلقین کرکے آنا کس مقصد کیلیے تھا؟ بانی پی ٹی آئی ڈی چوک میں بند تھے، کیا وہاں آکر چھڑانا تھا؟ پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے کئی سوالات اٹھ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: تاتاریوں سے امریکی فوج تک: بغداد کے عروج و زوال کی کہانی، دنیا کے سب سے امیر شہر کا ماضی
مشیر وزیراعظم کے خیالات
تفصیلات کے مطابق مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ جنازے کی تلقین کرکے آنا کس مقصد کے لیے تھا۔ دارالحکومت پر مسلح ہوکر حملہ کرنا کیا جرم نہیں؟ اسلام آباد میں چڑھائی کی گئی، مسلح جتھے میں 20 ہزار کے قریب لوگ تھے۔ مسلح افراد کس مقصد کے لیے آئے تھے؟ جہاں روکا گیا، وہاں انہوں نے فائرنگ کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی طالب علم فرخ سجاد تارڑ کا کارنامہ، برطانوی یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی
نجی ٹی وی پروگرام کا ذکر
انہوں نے ان خیالات کا اظہار نجی ٹی وی کے پروگرام "نیا پاکستان" شہزاد اقبال کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام میں سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی، شیخ وقاص اکرم نے بھی شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: یونیورسٹی آف لندن نے جسٹس عائشہ ملک کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نواز دیا
رانا ثناء اللہ کی مزید وضاحت
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جب پی ٹی آئی والے صوابی سے چلے تو پوری دنیا نے دیکھا کہ وہ مسلح تھے۔ جنازے کی تلقین کرکے آنا کس مقصد کے لیے تھا؟ بانی پی ٹی آئی ڈی چوک میں بند تھے، کیا وہاں آکر چھڑانا تھا؟ ڈی چوک میں رات 10 بجے سے رات 2 بجے تک ان لوگوں نے فائرنگ کی، جواب میں ربڑ کی بلٹ فائر کی گئی۔ احتجاج کے دوران 71 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ مطیع اللہ جان کی ایف آئی آر بڑی مضحکہ خیز لگتی ہے۔ یہ معاملہ وزیراعظم تک بھی پہنچا ہے۔ آج وہاں وزیراطلاعات، آئی جی اسلام آباد اور دیگر لوگ موجود تھے اور ان کو بڑی سختی سے کہا گیا کہ اس معاملے کو ذاتی طور پر دیکھیں۔
پروگرام کے میزبان کا تجزیہ
پروگرام کے میزبان شہزاد اقبال نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اپنا مزید نقصان کروا کر واپس چلی گئی۔ اس پورے معاملے میں بشریٰ بی بی کے کردار کو لے کر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔