جنازے کی تلقین کرکے آنا کس مقصد کیلیے تھا،بانی پی ٹی آئی ڈی چوک میں بند تھے جو وہاں آکر چھڑانا تھا؟ کئی سوالات اٹھ گئے
پی ٹی آئی کی احتجاج پر سوالات
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جنازے کی تلقین کرکے آنا کس مقصد کیلیے تھا؟ بانی پی ٹی آئی ڈی چوک میں بند تھے، کیا وہاں آکر چھڑانا تھا؟ پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے کئی سوالات اٹھ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایتھلیٹ ثمر خان نے آرکٹک کے برف پوش علاقے میں 300 کلومیٹر طویل ڈاگ سلیج مہم کامیابی سے مکمل کرلی
مشیر وزیراعظم کے خیالات
تفصیلات کے مطابق مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ جنازے کی تلقین کرکے آنا کس مقصد کے لیے تھا۔ دارالحکومت پر مسلح ہوکر حملہ کرنا کیا جرم نہیں؟ اسلام آباد میں چڑھائی کی گئی، مسلح جتھے میں 20 ہزار کے قریب لوگ تھے۔ مسلح افراد کس مقصد کے لیے آئے تھے؟ جہاں روکا گیا، وہاں انہوں نے فائرنگ کی۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے یمنیٰ زیدی سمجھ کر خاتون اپنے شوہر سے لڑپڑی تھی‘ مدیحہ امام
نجی ٹی وی پروگرام کا ذکر
انہوں نے ان خیالات کا اظہار نجی ٹی وی کے پروگرام "نیا پاکستان" شہزاد اقبال کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام میں سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی، شیخ وقاص اکرم نے بھی شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: ہنگامی ٹیکس کیلئے سولر پینلز اور انٹرنیٹ پر ٹیکس کی شرحیں بڑھانے پر غور
رانا ثناء اللہ کی مزید وضاحت
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جب پی ٹی آئی والے صوابی سے چلے تو پوری دنیا نے دیکھا کہ وہ مسلح تھے۔ جنازے کی تلقین کرکے آنا کس مقصد کے لیے تھا؟ بانی پی ٹی آئی ڈی چوک میں بند تھے، کیا وہاں آکر چھڑانا تھا؟ ڈی چوک میں رات 10 بجے سے رات 2 بجے تک ان لوگوں نے فائرنگ کی، جواب میں ربڑ کی بلٹ فائر کی گئی۔ احتجاج کے دوران 71 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ مطیع اللہ جان کی ایف آئی آر بڑی مضحکہ خیز لگتی ہے۔ یہ معاملہ وزیراعظم تک بھی پہنچا ہے۔ آج وہاں وزیراطلاعات، آئی جی اسلام آباد اور دیگر لوگ موجود تھے اور ان کو بڑی سختی سے کہا گیا کہ اس معاملے کو ذاتی طور پر دیکھیں۔
پروگرام کے میزبان کا تجزیہ
پروگرام کے میزبان شہزاد اقبال نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اپنا مزید نقصان کروا کر واپس چلی گئی۔ اس پورے معاملے میں بشریٰ بی بی کے کردار کو لے کر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔








