انسداد دہشتگردی کی عدالت نے پی ٹی آئی کارکنان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ سنا دیا
انسداد دہشتگردی عدالت کی کارروائی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) انسداد دہشتگردی عدالت نے احتجاج کے دوران گرفتار ہونیوالے پی ٹی آئی کے 156 کارکنان کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایمان اور یقین کا معجزہ: نواب کی بیٹی کی زندگی کا حیرت انگیز واقعہ
سماعت کی تفصیلات
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف درج کیسز کی سماعت کی۔ پی ٹی آئی وکلاء انصر کیانی، مرزا عاصم بیگ، صہیب الیاس عدالت میں پیش ہوئے۔ تفتیشی افسر نے ملزمان سے تحقیقات کیلئے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی اور کہا کہ پی ٹی آئی کارکنان سے اینٹی رائٹس کٹس اور ڈنڈے برآمد ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مہمانوں کی گفتگو ختم ہونے اور چائے کے بعد سٹیزن کونسل میں جنرل راحت لطیف نے ستیاپال جی کے ساتھ کشمیر کے بارے میں گفتگو شروع کر دی۔
جج کا تبصرہ
جج طاہر عباس سپرا نے کہا، "اور کیا برآمد کرنا ہے؟ اسلام آباد میں اتنی اینٹی رائٹس کٹس ہی نہیں جتنی چھینی جاچکی ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل: یکم مئی کے میچز سے متعلق اہم اعلان، انتظامات اور ہدایات
عدالتی فیصلے
عدالت نے 17 ملزمان کا مزید چار روزہ جسمانی ریمانڈ جبکہ 139 ملزمان کا بھی چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ عدالت نے دو خواتین کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔
گرفتار خواتین کا بیان
گرفتار خواتین کارکنان نے بتایا کہ ہمیں 24 نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا، اور ہمیں کھانا پینا بھی نہیں دیتے۔








