جو معاشرہ سچ سے جتنا دور ہوتا ہے وہ سچ بولنے والوں سے اتنی ہی نفرت کرتا ہے۔ ویسے بھی ناکامی سوتیلی ہوتی ہے اور کامیابی کے سو رشتہ دار۔
تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 4
یہ آپ بیتی خاص طور پر ان نوجوان افسروں کے لئے ہے جو محنت، لگن، ایمانداری اور خدمت کے جذبے سے سرشار اس ملک کے کل کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ آنے والے کل میں نام اچھائی پھیلانے اور خدمت کرنے والوں کا ہی زندہ رہنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایڈز سے بچاؤ کے لیے آگاہی پھیلانے کی اشد ضرورت ہے: ڈاکٹر حاجی محمد حنیف
نوجوانوں کی اہمیت
نوجوان پاکستان کا سرمایہ ہیں۔ اپنے والدین کا سہارا اور گھر کے چراغ ہیں۔ اللہ نے آپ کو بہت سی صلاحیتوں، قابلیت اور ذہانت سے نوازا ہے۔ آپ پر بھاری ذمہ داری ہے۔ ان حالات میں نوجوانوں خاص طور پر نوجوان افسران سے میں توقع کرتا ہوں کہ وہ اپنی جوانی، زندگی، ذات کی حفاظت، اپنے والدین، وقت اور شباب کی قدر کریں۔ اللہ پر توکل کریں بے شک اللہ کا وعدہ ہے کہ "جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لئے کافی ہے۔" (سورہ طلاق 3)
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (منگل) کا دن کیسا رہے گا ؟
سچ کی قیمت
عین ممکن ہے کچھ لوگ یہ کہانی پڑھ کر کہیں "بے حیائی اور ڈھٹائی ملاحظہ ہو کہ کس صفائی سے اپنا اعمال نامہ پیش کیا ہے۔ کمبخت چور کے علاوہ سینہ زور بھی نکلا۔" ایسی سوچ والوں کے لئے بس یہی جواب ہے کہ سچ لکھنے، سننے اور بولنے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ سر پھرے سچ سے گھبراتے، شرماتے نہیں بلکہ مسکراتے ہیں۔ میں نے سچ بولنے کی کوشش کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حنا پرویز بٹ کا چکوال میں خاتون کے بہیمانہ قتل پر نوٹس، قاتل کو عبرت کا نشان بنایا جائے گا : چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی
حماقتوں اور صداقتوں کا تجزیہ
آج جب ماضی کی ان حماقتوں اور صداقتوں کا تجزیہ کر رہا ہوں تو ایک بات بڑے وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ ان حماقتوں میں بھی صداقت ضرور تھی۔ جھوٹ نہ ہونے کے برابر تھا۔ دراصل وہ جھوٹ نہیں مصلحت تھی۔ بقول شیخ سعدیؒ؛ "میں ایسا جھوٹ کئی بار بولنا چاہوں گا جس سے کسی کا کوئی فائدہ ہو۔" یہ کتاب ایسے ہی سیکھے ہوئے ادب اور ایسے ہی بولے گئے کچھ جھوٹوں پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں مردہ پائی جانیوالی اداکارہ حمیرا اصغر کے کیس میں اہم پیش رفت، بہنوئی اور بہن کا لاش وصولی کا فیصلہ
ترک کردہ ورثہ
میری خواہش ہے کہ میں ان شاہ پاروں کے ساتھ یاد رکھا جاؤں جو ہمارا شاندار اثاثہ تھے جن میں زبان کی محبت، الفاظ کے معنی اور دانش سمائی ہوتی تھی لیکن نہ جانے کن وجوہات کے سبب ہم نے انہیں ترک کر دیا جو کبھی ہماری زبان، تہذیب کا ورثہ، ہمارا افتخار تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے سکولوں میں گرمیوں کی چھٹیاں 28 مئی سے شروع ہوں گی
شکریہ
کتاب مکمل ہو گئی تو سعید سلطان بھائی کا فون آیا کہنے لگے کیا ہو رہا ہے۔ کہنے لگے واہ کیا نام دیا ہے۔ پسند آیا ہے۔ مجھے بھیجو۔ یوں انہیں مسودہ بھجوایا۔ وہ میرے پہلے قاری بن گئے۔ انہوں نے کچھ مشورے دئیے، کچھ غلطیوں کی اصلاح کی، کچھ ترتیب درست کرائی۔
یہ بھی پڑھیں: سروائییکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین لانچ کی تو سارے افلاطون باہر آگئے، مصطفی کمال
دوستوں کا تعاون
اللہ ان سب کو خوش و خرم رکھے۔ آمین۔ میں اپنی شریک حیات کا بھی دل سے ممنون ہوں جس نے ہمیشہ میری کامیابی کے لئے دعا کی۔ سلامت رہئے، دعاؤں میں یاد رکھئیے۔ اللہ ہم سب سے راضی ہو۔ آمین۔
شہزاد احمد حمید۔ لاہور (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








