ٹرمپ نے بھارتی نژاد کو ایف بی آئی کا سربراہ نامزد کردیا
امریکا میں نیا ایف بی آئی سربراہ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی نژاد شہری کشیپ کاش پٹیل کو وفاقی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کا سربراہ منتخب کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: سہ فریقی سیریز: محمد حارث آؤٹ ہونے پر غصے میں آگئے، بیٹ توڑ ڈالا
کاش پٹیل کی شمولیت
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے سربراہ جیسی اہم اور حساس ذمہ داری کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی نگاہِ انتخاب اپنے وفادار اور اسٹیبلشمنٹ کے ناقد پر ٹھہری ہے۔ کاش پٹیل بھارتی نژاد شہری ہیں جو پیشے کے اعتبار سے وکیل اور تفتیش کار ہیں۔ ٹرمپ نے ان کے نام کا اعلان کرتے ہوئے کاش پٹیل کو ’’امریکا فرسٹ فائٹر‘‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بے شمار تاریخی عمارتیں ہیں جہاں صدیوں کی تاریخ بکھری پڑی ہے، پاکستان کی فلمی صنعت کا بھی یہ شہر سب سے بڑا مرکز رہا ہے۔
کاش پٹیل کی قابلیت
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ کاش پٹیل ایک شاندار وکیل، اور تفتیش کار ہیں جنھوں نے اپنا کیریئر کرپشن کو بے نقاب اور امریکیوں کی حفاظت میں صرف کیا ہے۔ 44 سالہ کشیپ کاش پٹیل متعدد بار اپنے آبائی وطن بھارت کے ساتھ گہرے تعلق کا اظہار کرچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پانچویں جماعت کی طالبہ سے شادی کرنے والا ملزم عدالت سے فرار
تعلیم اور پس منظر
کشیپ کاش پٹیل نیویارک میں گجراتی والدین کے ہاں پیدا ہوئے تھے جن کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ مشرقی افریقہ میں پلے بڑھے ہیں۔ کاش پٹیل نے یونیورسٹی آف رچمنڈ سے گریجویشن اور لندن کی یونیورسٹی کالج سے انٹرنیشنل لا میں قانون کی ڈگری حاصل کی۔ وہ قائم مقام سیکرٹری دفاع کرسٹوفر ملر کے سابق چیف آف سٹاف کے طور پر خدمات انجام دیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم شہباز شریف کی قطر میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات
ماضی کی خدمات
علاوہ ازیں، ٹرمپ کے پہلے دور میں صدر کے نائب معاون اور قومی سلامتی کونسل (NSC) میں انسداد دہشت گردی (CT) کے سینئر ڈائریکٹر کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ کاش پٹیل نے اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کئی اولین ترجیحات پر عملدرآمد کی نگرانی کی، جس میں داعش اور القاعدہ کی قیادت کا خاتمہ سمیت متعدد امریکی یرغمالیوں کی محفوظ وطن واپسی شامل تھی۔
یہ بھی پڑھیں: لیسکو کا ڈیجیٹلائزیشن کی طرف ایک اور قدم، ای آر پی سسٹم کو اپ گریڈ کر دیا گیا
تحقیقات میں کردار
انھوں نے ٹرمپ کی 2016 کی انتخابی مہم اور روس کے درمیان رابطوں کے بارے میں ہاؤس ریپبلکنز کی تحقیقات میں ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کے سابق سربراہ ڈیوین نونس کے معاون کے طور پر بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔
ٹرمپ کا اعتماد
کشیپ پٹیل کی ٹرمپ کے ساتھ قربت اور اعتماد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دور حکومت ختم ہونے کے بعد مصائب میں گھیرے ٹرمپ نے انھیں اپنے صدارتی ریکارڈ تک رسائی کے لیے نمائندہ نامزد کیا تھا۔








