آئینی بنچ نے قیدیوں کو جیل میں یکساں سہولیات دینے سے متعلق درخواست خارج کردی
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ آئینی بنچ نے قیدیوں کو جیل میں یکساں سہولیات دینے سے متعلق درخواست خارج کردی۔ عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان ورکنگ ریلیشن قائم ہو رہا ہے، جو خوش آئند بات ہے، وزیر دفاع
سماعت کا پس منظر
نجی ٹی وی چینل کے مطابق، سپریم کورٹ آئینی بنچ میں قیدیوں کو جیل میں یکساں سہولیات دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد نے ہاتھ پیر پھیلانے شروع کیے تو ایک دن چپ چاپ جغرافیائی حدود کو پھلانگ کر گولڑہ تک آن پہنچا اب یہ اسلام آباد کا حصہ ہی تصور ہوتا ہے.
عدالت کے ریمارکس
جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا قیدیوں کی سہولیات کا جائزہ لینا سپریم کورٹ کا کام ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ یہ درخواست ذاتی نوعیت کی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے یہ بھی کہا کہ اگر جیل رولز پر اعتراض ہے تو متعلقہ صوبے یا ہائیکورٹ سے رجوع کیا جائے۔
حتمی فیصلہ
جسٹس امین الدین خان نے واضح کیا کہ اس طرح کی درخواستیں سپریم کورٹ میں نہ لائی جائیں۔ آئینی بنچ نے جیلوں میں قیدیوں کو یکساں سہولیات دینے کی درخواست خارج کر دی اور رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیا۔








