لاپتہ افراد واپس آنے پر کہتے ہیں شمالی علاقہ جات آرام کیلئے گئے تھے، آئینی بنچ کے کیس میں ریمارکس
سپریم کورٹ آئینی بنچ کی کارروائی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے لاپتہ افراد کیس میں اٹارنی جنرل، وزارت داخلہ اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ عدالت نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد جب واپس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ وہ شمالی علاقہ جات آرام کے لئے گئے تھے۔ جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ اگر کسی مقدمے کو مثال بنانا ہے تو جرأت پیدا کریں، نظام میں کوئی کھڑا ہونے کو تیار نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کراچی کے پہلے ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ کیئر سینٹر کا افتتاح کردیا
لاپتہ افراد کا اہم مسئلہ
نجی ٹی وی چینل دنیانیوز کے مطابق سپریم کورٹ آئینی بنچ میں لاپتہ افراد کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میرے نظر میں لاپتہ افراد کا کیس انتہائی اہم ہے، کیونکہ ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ دونوں میں ایسے کیسز چل رہے ہیں۔ ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں اور اس مسئلے کا حل پارلیمنٹ نے ہی نکالنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے
حکومتی اقدامات
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کابینہ نے گزشتہ روز لاپتہ افراد کے معاملے پر گفتگو کی۔ کابینہ نے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے جو اپنی سفارشات کابینہ کو پیش کرے گی۔ حکومت لاپتہ افراد کے مسئلے کو حتمی طور پر حل کرنے کی خواہاں ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف بیان بازی سے حل نہیں ہوسکتا۔
یہ بھی پڑھیں: ماہرہ خان کے چہرے کی تبدیلی پر مداحوں کی تنقید، بوٹوکس اور فلرز کی خبریں زیرِ گردش
عدالت کی درخواستیں
جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ لاپتہ افراد کمیشن نے کتنی ریکوریاں کی ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے وضاحت کی کہ واپس آنے والے افراد کچھ بھی نہیں بتاتے اور عدالت نے یہ نوٹ کیا کہ وہ واپس آ کر کہتے ہیں کہ وہ شمالی علاقہ جات آرام کے لیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکار دھرمیندر 89 سال کی عمر میں چل بسے
پارلیمنٹ کا کردار
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کا عام یا مشترکہ اجلاس بلا کر مسئلے کا حل نکالیں۔ وکیل لطیف کھوسہ نے سوال کیا کہ کیا لاپتہ افراد کے مسئلے کو 26ویں ترمیم کی طرح حل کیا جائے گا، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کو بھی اپنے وقت پر دیکھا جائے گا۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد سے سب سے زیادہ متاثرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کی لاگت میں ایک کھرب سے زائد کا اضافہ ہوگیا
عدالت کی کارروائی کا نتیجہ
جسٹس جمال مندوخیل نے زور دیا کہ سابقہ عدالتی احکامات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم پر کچھ لاپتہ افراد گھر واپس آ گئے مگر وہ کسی عدالتی فورم پر بیان کے لیے پیش نہیں ہوئے۔ جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ اگر کسی مقدمے کو مثال بنانا ہے تو اپنے اندر جرأت پیدا کریں، نظام میں کوئی کھڑا ہونے کو تیار نہیں۔
آئندہ کی کارروائی
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لاپتہ افراد کا حل نکالنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک جگہ پر بیٹھ کر غور کرنا چاہیے کہ یہ مسئلہ کیوں پیدا ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ کو خود کی سپریم حیثیت ثابت کرنی چاہیے۔ عدالت نے تمام متعلقہ اداروں سے رپورٹیں طلب کر لیں اور لاپتہ افراد کے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔








