ادارے گڈ گو رننس کی تر ویج میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی کا ہانگ کانگ میں بین الاقوامی محتسب سربراہ اجلاس سے خطاب
وفاقی محتسب کی تقریب سے خطاب
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے کہا ہے کہ محتسب کا ادارہ گڈ گورننس، انسانی حقوق کے تحفظ اور بدانتظامی سے مؤثر طریقے سے نمٹنے میں بنیادی کردار کا حامل ہیں اور عوامی شکایات کی داد رسی کر رہا ہے۔ وہ گزشتہ روز ہانگ کانگ میں محتسب کے دفتر کے قیام کی 35 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ بین الاقوامی محتسب کانفرنس 2024ء سے خطاب کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور حملے کی منصوبہ بندی پر پاکستانی نژاد امریکی شہری گرفتار
عالمی اداروں کی حمایت
وفاقی محتسب جو کہ ایشیئن امبڈسمین ایسوسی ایشن (AOA) کے موجودہ صدر بھی ہیں، نے کہا کہ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ جمہوریت، گڈگورننس اور قانون کی حکمرانی کے نظام کو مضبوط کرنے میں محتسب کے ادارے کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔ اچھی انتظامیہ اور مؤثر خدمات کی فراہمی، پائیدار ترقی کے اہداف کی سب سے اہم خصوصیات ہیں۔ پرامن اور مہذب معاشروں کی تعمیر کے لیے کام کرنے والے محتسب کے اداروں کے کردار پر یہ اہداف براہ راست اثر پذیر ہوتے ہیں اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب انصاف تک رسائی فراہم کرنے والے محتسب اور ثالثی اداروں کے کام اور دائرہ کار میں تیزی سے توسیع دیکھنے میں آرہی ہے حتیٰ کہ اب اس میں ماحولیاتی تبدیلی، کاروباری حقوق اور عوامی اداروں تک رسائی جیسے مسائل بھی شامل ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرین نے صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر حملے کی کوشش کی، روسی وزیر خارجہ
محتسب کے اداروں کی افادیت
محتسب کے اداروں کی افادیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ ان میں کس اہلیت کے افراد کام کرتے ہیں اور ادارے و ملازمین کے لیے خدمت اور کارکردگی کے کیا معیارات مرتب کیے گئے ہیں۔ انہوں نے محتسب کے اداروں کی عام لوگوں تک رسائی اور دسترس کو بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور اسے محتسب کے کسی بھی مؤثر ادارے کے لیے سب سے اہم اقدام قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کینگرو کورٹس سے سزاؤں کی مذمت کرتے ہیں، ہائبرڈ نظام پاکستان میں اپوزیشن کا خاتمہ چاہتا ہے، مصطفیٰ نواز کھوکھر
آئی ٹی کے استعمال کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ محتسب کے اداروں کی کارکردگی بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں آئی ٹی کے استعمال، شکایات داخل کرانے اور ان پر کارروائی کرنے کے آسان اور لاگت سے پاک طریقہ کار اور شکایات کے فوری نمٹنے اور فیصلوں پر عمل درآمد کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ویان ملڈر نے برائن لارا کا 400 رنز کا ریکارڈ نہ توڑنے کی وجہ بتا دی
عوامی بیداری کی ضرورت
وفاقی محتسب نے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے مثبت استعمال کے ذریعے زیادہ سے زیادہ عوامی بیداری پیدا کرنے پر زور دیا۔ پاکستان کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے کہا کہ پاکستان میں محتسب کے ادارے مضبوط ہو چکے ہیں۔ عام لوگوں کو مفت اور تیز تر انتظامی انصاف فراہم کرنے میں وفاقی محتسب کے ادارے کی کامیابی کے بعد بینکنگ، ٹیکس، انشورنس اور خواتین کو ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے بھی محتسب کے ادارے قائم ہو چکے ہیں اور اب مجموعی طور پر پاکستان میں محتسب کے 14 ادارے وفاقی اور صوبائی سطحوں پر کام کر رہے ہیں جو اپنے متعلقہ شعبوں میں سرکاری اداروں کی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
باہمی تعاون
ہا نگ کانگ میں محتسبین کی اس کانفرنس میں اقوام متحدہ کے اداروں کے نمائندگان اور ایشیئن امبڈسمین ایسوسی ایشن کے رکن اداروں سمیت بیرون ملک سے 140 سے زائد نمائندگان شرکت کر رہے ہیں۔








