دھرنوں میں قانون ہاتھ میں لینے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دھرنوں کے دوران قانون ہاتھ میں لینے والوں کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: آن لائن کاروبار کو ٹیکس کے دائرہ میں لانے کے لئے نئے قواعد و ضوابط جاری
اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق سعودی عرب روانگی سے قبل وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت 24 نومبر کے دھرنے میں فسادات کی تحقیقات کے لئے تشکیل کردہ ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا جس میں وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ اور دیگر اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کی پولیس قافلے پر بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے حملے کی شدید مذمت
بریفنگ کی اہمیت
دوران اجلاس وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موقع واردات سے اسلحہ اور فائرنگ کے نتیجے میں ملنے والے کارتوس اور خول و دیگر شواہد اکٹھے کئے جا چکے ہیں، تمام شواہد فارنزک کے لئے بھیجے جائیں گے، موقع واردات پر موجود فسادیوں کی شناخت کا عمل بھی تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے، شناخت کے بعد تمام فسادیوں کو عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ، جنگ کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے کرکٹ مقابلے کا ٹاس ہو گیا
قانونی کارروائی پر پیشرفت
اجلاس کے شرکاءسے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملک میں انتشار پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی پر پیشرفت کا ہفتہ وار جائزہ لیا جائے گا۔ دھرنوں میں قانون پامال کرنے والوں، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو زخمی اور شہید کرنے والوں کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزائیں دی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: اہم پالیسی فیصلے رک گئے۔۔۔
بین الاقوامی معیار کی انسداد فسادات فورس
ان کا کہنا تھا کہ انتشار پھیلانے والوں نے بیلاروس کے صدر کے دورہ پاکستان کے وقت ملک کے دارالحکومت پر لشکر کشی کی جو ہمارے لئے شدید شرمندگی کا باعث بنا۔ پاکستان میں عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق عالمی معیار کی انسداد فسادات فورس کی تشکیل دی جائے گی۔
فارنزک لیب کا قیام
شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد سیف سٹی میں فارنزک لیب شامل کر کے اسے بین الاقوامی معیار پر لایا جائے گا اور اس کے لئے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔








