شام میں حزبِ اختلاف کی حلب پر قبضے کے بعد ایک اور بڑے شہر کی طرف پیش قدمی، بہت سے علاقے پر قبضہ
مسلح حزبِ اختلاف کی پیش قدمی
دمشق (ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلح حزبِ اختلاف کی فورسز کی مرکزی شام کے شہر حما کی طرف پیش قدمی جاری ہے۔ اس دوران حزب اختلاف کی بشارالاسد کی شامی افواج کے ساتھ جھڑپیں بھی ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اپنے ہی باپ انتہائی شرمناک الزام لگانے والے بیٹے کو فیصل آباد پولیس نے حوالات میں بند کردیا
شدید جھڑپیں
العربیہ کے مطابق شام میں انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی سیریئن آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ ہیئۃ تحریر الشام کی شامی افواج کے ساتھ شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ تحریرالشام نے گزشتہ ہفتے بشارالاسد کی افواج کے خلاف حملوں کا آغاز کیا تھا۔ اپنے حملے کے آغاز سے اب تک انہوں نے شامی حکومت سے بڑے علاقے چھین لیے ہیں، جن میں دوسرا بڑا شہر حلب بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ 26-2025 آئندہ مالی سال کی قرض وصولیوں کے لیے پلان تیار
جغرافیائی صورتحال
حالیہ جھڑپیں شمالی حما کے دیہی علاقے میں ہو رہی ہیں، جہاں حزب اختلاف کے دھڑوں نے چند گھنٹوں میں کئی شہر اور قصبے قبضے میں لے لیے ہیں۔ شامی اور روسی فضائی افواج نے اس علاقے پر درجنوں حملے کیے ہیں۔ روس نے پہلی بار 2015 میں شام کی جنگ میں براہِ راست مداخلت کی تھی اور حزبِ اختلاف کے زیرِ قبضہ علاقوں پر حملے کیے تھے۔ موجودہ صورتحال کے آغاز کے بعد بھی روس نے صدر بشار الاسد کی حمایت جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے 36 اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز 16 دسمبر کو ہو گا
اسٹریٹجک اہمیت
حما ایک اسٹریٹجک شہر ہے جو حلب کو دارالحکومت دمشق سے جوڑتا ہے۔ خبر ایجنسی اے ایف پی کے ایک صحافی نے شمالی حما کے دیہی علاقے میں درجنوں شامی فوجی ٹینک اور فوجی گاڑیاں سڑک کے کنارے ترک شدہ حالت میں دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔
انسانی بحران
اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ لڑائی، جو کہ نومبر کے آخر سے جاری ہے، اس میں تقریباً 50 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور سینکڑوں افراد، جن میں زیادہ تر جنگجو شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔








