شرمساری پر مبنی یہ بیہودہ اور نقصان دہ سلسلے دار چکر ان تمام شناختوں اور علامتوں پر لاگو ہوتا ہے جن کے باعث آپ اپنی شخصیت کو بے وقعت اور حقیر سمجھتے ہیں
مصنف کی معلومات
مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
ترجمہ: ریاض محمود انجم
یہ بھی پڑھیں: شاہدرہ ٹاؤن میں کمسن ڈرائیور کی غفلت سے اندوہناک حادثہ، ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمی
قسط: 67
یہ بھی پڑھیں: سالگرہ منانے کے لیے جھیل میں جانے والوں کی کشتی الٹ گئی، 8 افراد ہلاک
شرم کی کیفیت
1: "میں بہت شرمیلا ہوں۔"
2: "مجھے وہ لوگ بہت پسند ہیں۔"
3: "میرا خیال ہے کہ میں ان کے پاس جاؤں۔"
4: "نہیں، میں ان کے پاس نہیں جا سکتا۔"
5: "میں ان کے پاس کیوں نہیں جا سکتا۔"
6: "اس لیے کہ میں بہت شرمیلا ہوں۔"
یہ بھی پڑھیں: کراچی دھماکا: کرائم سین پر صورتحال غیر واضح، قبل از وقت کچھ کہنا مشکل ہے: ڈی آئی جی ایسٹ
عادات کی تشکیل
ہمیشہ سے ہی آپ کا یہی رویہ اور طرزعمل ہوتا ہے اور چونکہ آپ مسلسل استعمال کے ذریعے اپنی یہ عادت پختہ کر لیتے ہیں، اس لیے یہ آپ کی فطرت ثانیہ بن گئی ہوتی ہے۔ اس عادت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے درکار خطرہ مول لینے پر مبنی رویہ اور طرزعمل آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 14 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی، ملزم گرفتار، حنا پرویز بٹ کا متاثرہ بچی کے گھر کا دورہ
شرم کی وجوہات
اس نوجوان میں موجود شرم کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن کا ماخذ ممکنہ طور پر اس کا بچپن ہے۔ اپنے اس خوف کی وہ جو کچھ بھی وجہ بتاتا ہے، بہرحال اس نے یہ فیصلہ کر لیا ہوتا ہے کہ وہ معاشرتی طور پر لوگوں سے میل جول نہ رکھنے اور اپنے اس روئیے اور طرزعمل کو اپنی شناخت و علامت کے پردے میں چھپا دے۔ ناکامی کا خوف اس قدر شدید ہوتا ہے کہ وہ کوشش کرنے سے بھی گھبراتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی وزیردفاع میڈیا پر برس پڑے
رویہ میں تبدیلی کی کوشش
جب بھی وہ اپنا یہ رویہ تبدیل کرنے کا خیال ذہن میں لاتا ہے تو اس کی شناخت و علامت اس کا گھیراؤ کر لیتی ہے اور پھر وہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے: "میں بہت شرمیلا تھا اور ابھی تک شرمیلا ہوں اور میرا رویہ اور طرزعمل شرمیلے انداز پر مبنی ہوتا ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: عثمان طارق مختلف کرکٹر ہیں لیکن ہتھیار نہیں ڈال سکتے، ہم نے پلان کیا ہوا ہے، بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو
شخصیت کی خودکم بینی
شرمساری پر مبنی یہ بیہودہ اور نقصان دہ سلسلہ ان تمام شناختوں اور علامتوں پر لاگو ہوتا ہے جن کے باعث آپ اپنی شخصیت کو بے وقعت اور حقیر سمجھتے ہیں۔ ذیل میں ایک ایسے طالب علم کا احوال دیکھیے جو ریاضی میں کمزور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس، ریسٹورنٹ مالک نے چور کو قتل کرکے پکڑ لیا
طالب علم کی مثال
1: میں ریاضی میں کمزور ہوں (میں ہمیشہ یہی کہتا ہوں)
2: آج میں نے ریاضی کے سوالات حل کرنے ہیں۔
3: میرا خیال ہے کہ میں یہ سوالات حل کر لوں گا۔
4: (10 منٹ کے لیے) میں یہ سوالات حل نہیں کر سکتا۔
5: میں یہ سوالات کیوں نہیں حل کر سکتا؟
6: اس لیے کہ میں ریاضی میں کمزور ہوں۔
یہ طالب علم ہمیشہ سے ہی اس عادت میں مبتلا ہے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ اس نے ریاضی کی جماعت سے کیوں غیرحاضری کی تو وہ کہنے لگا: "میں ہمیشہ سے ہی ریاضی میں کمزور ہوں۔" اسی طرح کی مزید خامیوں اور کمزوریوں کے باعث آپ مستقل طور پر اپنے لیے خودتحقیری اور بے وقعتی پر مبنی رویہ اور طرزعمل اختیار کر لیتے ہیں۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








