شرمساری پر مبنی یہ بیہودہ اور نقصان دہ سلسلے دار چکر ان تمام شناختوں اور علامتوں پر لاگو ہوتا ہے جن کے باعث آپ اپنی شخصیت کو بے وقعت اور حقیر سمجھتے ہیں

مصنف کی معلومات

مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
ترجمہ: ریاض محمود انجم

یہ بھی پڑھیں: وزیر تجارت جام کمال سے پاکستان میں فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر فرنینڈز کی اہم ملاقات، برآمدات بڑھانے پر گفتگو

قسط: 67

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: میڈیکل سٹور ڈپو کی 5 سالہ آڈٹ رپورٹ میں 5 ارب کی بے ضابطگیاں

شرم کی کیفیت

1: "میں بہت شرمیلا ہوں۔"
2: "مجھے وہ لوگ بہت پسند ہیں۔"
3: "میرا خیال ہے کہ میں ان کے پاس جاؤں۔"
4: "نہیں، میں ان کے پاس نہیں جا سکتا۔"
5: "میں ان کے پاس کیوں نہیں جا سکتا۔"
6: "اس لیے کہ میں بہت شرمیلا ہوں۔"

یہ بھی پڑھیں: یقین ہے روس اور یوکرین سیز فائر کے لیے فوری بات چیت شروع کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

عادات کی تشکیل

ہمیشہ سے ہی آپ کا یہی رویہ اور طرزعمل ہوتا ہے اور چونکہ آپ مسلسل استعمال کے ذریعے اپنی یہ عادت پختہ کر لیتے ہیں، اس لیے یہ آپ کی فطرت ثانیہ بن گئی ہوتی ہے۔ اس عادت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے درکار خطرہ مول لینے پر مبنی رویہ اور طرزعمل آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر اے پی ڈھلوں اور دلجیت دو سانجھ کے درمیان تنازع کھڑا ہو گیا

شرم کی وجوہات

اس نوجوان میں موجود شرم کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن کا ماخذ ممکنہ طور پر اس کا بچپن ہے۔ اپنے اس خوف کی وہ جو کچھ بھی وجہ بتاتا ہے، بہرحال اس نے یہ فیصلہ کر لیا ہوتا ہے کہ وہ معاشرتی طور پر لوگوں سے میل جول نہ رکھنے اور اپنے اس روئیے اور طرزعمل کو اپنی شناخت و علامت کے پردے میں چھپا دے۔ ناکامی کا خوف اس قدر شدید ہوتا ہے کہ وہ کوشش کرنے سے بھی گھبراتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایبٹ آباد کے باپ اور بیٹے نے ایک ہی دن شادی کر کے نئی مثال قائم کردی

رویہ میں تبدیلی کی کوشش

جب بھی وہ اپنا یہ رویہ تبدیل کرنے کا خیال ذہن میں لاتا ہے تو اس کی شناخت و علامت اس کا گھیراؤ کر لیتی ہے اور پھر وہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے: "میں بہت شرمیلا تھا اور ابھی تک شرمیلا ہوں اور میرا رویہ اور طرزعمل شرمیلے انداز پر مبنی ہوتا ہے۔"

یہ بھی پڑھیں: صنفی بنیادوں پر تشدد کیخلاف 16 روزہ مہم شروع ،مقصدحقوق کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے : چیئرپرسن ویمن پروٹیکشن اتھارٹی

شخصیت کی خودکم بینی

شرمساری پر مبنی یہ بیہودہ اور نقصان دہ سلسلہ ان تمام شناختوں اور علامتوں پر لاگو ہوتا ہے جن کے باعث آپ اپنی شخصیت کو بے وقعت اور حقیر سمجھتے ہیں۔ ذیل میں ایک ایسے طالب علم کا احوال دیکھیے جو ریاضی میں کمزور ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں نیو ایئر نائٹ پر آتشبازی کے سامان کی ترسیل ناکام، بڑی کھیپ برآمد

طالب علم کی مثال

1: میں ریاضی میں کمزور ہوں (میں ہمیشہ یہی کہتا ہوں)
2: آج میں نے ریاضی کے سوالات حل کرنے ہیں۔
3: میرا خیال ہے کہ میں یہ سوالات حل کر لوں گا۔
4: (10 منٹ کے لیے) میں یہ سوالات حل نہیں کر سکتا۔
5: میں یہ سوالات کیوں نہیں حل کر سکتا؟
6: اس لیے کہ میں ریاضی میں کمزور ہوں۔

یہ طالب علم ہمیشہ سے ہی اس عادت میں مبتلا ہے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ اس نے ریاضی کی جماعت سے کیوں غیرحاضری کی تو وہ کہنے لگا: "میں ہمیشہ سے ہی ریاضی میں کمزور ہوں۔" اسی طرح کی مزید خامیوں اور کمزوریوں کے باعث آپ مستقل طور پر اپنے لیے خودتحقیری اور بے وقعتی پر مبنی رویہ اور طرزعمل اختیار کر لیتے ہیں۔

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...