پر اسرار بیماری سے 143 افراد ہلاک، ڈبلیو ایچ او بھی میدان میں آگیا
نومبر میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں نامعلوم بیماری
کنشاسا (ڈیلی پاکستان آن لائن) افریقی ملک ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کے جنوب مغربی صوبے میں نومبر کے دوران ایک نامعلوم بیماری نے 143 افراد کی جان لے لی۔
یہ بھی پڑھیں: 93 فیصد عوام نے جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی حمایت کی، گیلپ سروے
بیماری کی علامات
خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق متاثرہ افراد کو فلو جیسی علامات تھیں، جن میں شدید بخار اور سر درد شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیر اعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز سے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائیننس کے بانی چانگ پنگ ژاؤ کی ملاقات
حکومتی اقدامات
کوانگو صوبے کے ڈپٹی گورنر ریمی ساکی اور صوبائی وزیر صحت اپولینائر یومبا نے بتایا کہ ایک طبی ٹیم پانزی ہیلتھ زون بھیجی گئی ہے تاکہ نمونے جمع کر سکے اور بیماری کی شناخت کے لیے تجزیہ کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کا مقابلہ دوسرے صوبوں سے نہیں دنیا سے ہے، بلاول بھٹو
تشویش ناک صورتحال
سول سوسائٹی کے رہنما سیفورین مانزنا نے روئٹرز کو بتایا کہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ متاثرہ افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جہاں یہ بیماری پھیل رہی ہے وہ ایک دیہی علاقہ ہے۔ بیمار افراد علاج کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنے گھروں میں ہی دم توڑ رہے ہیں۔ وبائی امراض کے ایک مقامی ماہر کے مطابق خواتین اور بچے اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی کارروائیاں
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ایک ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی صحت ایجنسی کو پچھلے ہفتے اس بیماری کی موجودگی سے آگاہ کیا گیا تھا اور وہ کانگو کی پبلک ہیلتھ وزارت کے ساتھ مل کر مزید تحقیقات کر رہی ہے۔








