آئی ٹی یونیورسٹی کے قیام سے متعلق کیس؛ سپریم کورٹ نے انویسٹمنٹ کے پیسے درخواستگزار کو واپس کرنے کا حکم دیتے درخواست نمٹا دی
سپریم کورٹ کا حکم
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے اسلام آباد میں آئی ٹی یونیورسٹی کے قیام سے متعلق کیس میں درخواست گزار کو انویسٹمنٹ کے پیسے واپس کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کو نمٹا دیا۔ عدالت نے بیان دیا ہے کہ کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا بھارت کو سندھ طاس معاہدہ کی معطلی پر نوٹس دینے کا فیصلہ
زمین کا معاملہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ آئی ٹی یونیورسٹی کی زمین کو کمرشل کر دیا گیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے جواب دیا کہ سی ڈی اے متبادل زمین فراہم کرنا چاہتا تھا۔ وکیل نے وضاحت کی کہ ہم متبادل جگہ پر بھی یونیورسٹی بنانے کے لیے تیار ہیں، مگر جو شرائط عدالتی حکم میں تھیں، انہیں سی ڈی اے پہلے پورا کرے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِ اعظم کے لیے کوئی نیا طیارہ نہیں خریدا گیا، خواجہ آصف قومی اسمبلی میں کھل کر بول پڑے
سرمایہ کاری کا اثر
وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سی ڈی اے نے جگہ دینے کا معاہدہ کیا، مگر پھر مکر گیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بیرون ملک سے سرمایہ کاری ختم ہو جائے گی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ اتنے جذباتی نہ ہوں اور نہ ہی ہمیں جذباتی کریں۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی ایک شخص کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاری رک نہیں سکتی۔
عدالت کی وضاحت
عدالت نے کہا کہ پہلے بھی پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور آنے والے وقت میں بھی ہوگی۔ سپریم کورٹ کا آئینی بنچ نے کیس نمٹا دیا ہے اور درخواست گزار کو انویسٹمنٹ کی رقم واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ درخواست گزار کی رقم اب سپریم کورٹ میں موجود ہے اور اس پر منافع بھی اکٹھا ہو چکا ہوگا۔








