فیشن ڈیزائنر ماریہ بی اپنے دو نوزائیدہ بچوں کی موت پر بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں

ماریہ بی کا دردناک تجربہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آ ن لائن)فیشن ڈیزائنر ماریہ بی ماضی میں اپنے نوزائیدہ دو بچوں کی موت پر بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔ انہوں نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے نہ صرف فلسطین مسئلے پر روشنی ڈالی بلکہ 'ایل جی بی ٹی کیو' مسائل پر بھی کھل کر اظہار خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: میانوالی میں پولیس اور سی ٹی ڈی کی کارروائی، 10 دہشتگرد ہلاک
سچائی کا بولنا اور کاروباری خطرات
ماریہ بی نے بیان کیا کہ انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ مذکورہ معاملات پر بات کرنے سے ان کے کاروبار پر اثر پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگوں نے انہیں ڈرایا کہ وہ اتنا سچ نہ بولیں، جبکہ بعض لوگوں نے ان کی ہمت بڑھائی اور ان کی خیریت کی دعائیں بھی کیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی والے اس بار اٹھائے گئے تو 2،3 ماہ پتا بھی نہیں چلے گا کہ کہاں گئے؟ سابق گورنر سندھ محمد زبیر
خاندانی مسائل اور ذاتی زندگی کی تکالیف
فیشن ڈیزائنر نے مزید کہا کہ لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ شوبز اور فیشن انڈسٹری سے منسلک افراد کی زندگی پر سکون ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں وہ بھی بہت ساری مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ذاتی مسائل اور مشکلات یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے دو بچوں کی موت کا شدید صدمہ برداشت کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: گیدڑ نے پنجرے میں بند درجنوں قیمتی پرندوں کو مار ڈالا
نوزائیدہ بچوں کی موت کا صدمہ
ماریہ بی نے افسوسناک طور پر بتایا کہ انہوں نے اپنے دو بچوں کو کھو دیا، جن میں سے ایک بیٹا 10 سال تک زندہ رہا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے 22 سال کی عمر میں شادی کے فوراً بعد اپنے بچوں کو کھویا اور اس کا صدمہ ان کے لئے ناقابل برداشت تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے کئی ماہ تک کھانا پینا اور بات چیت کرنا بند کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں شادی سے قبل ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان قتل، ڈاکو اپنی موٹر سائیکل چھوڑ کر فرار
زندگی کی طرف واپسی
ماریہ بی نے کہا کہ انہیں بچے کی موت کے کئی ماہ بعد صبح کی اذان سن کر حوصلہ ملا اور وہ زندگی کی طرف واپس آئیں۔ پروگرام کے دوران وہ اس تکلیف دہ لمحات کو یاد کرتے ہوئے جذباتی ہوگئیں اور واضح کیا کہ وہ ان لمحوں کو دوبارہ بیان نہیں کر سکتیں۔
نقصان کی تفصیلات
انہوں نے اپنے بچوں کی موت کی وجوہات واضح نہیں کیں، لیکن ان کو کھونے کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی تکلیف قرار دیا۔