چمن میں ہو گئے بے اختیار ہم ہی کیوں۔۔۔
غبار کی مانند
نگاہِ وقت میں مثلِ غبار ہم ہی کیوں
بکھر رہے ہیں سرِ رہ گزار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: ایران پر امریکی حملہ، ٹرمپ نے کانگریس کو خط لکھ دیا
چمن کی آبیاری
جگر کے خون سے ہم نے ہی اس کو سینچا تھا
چمن میں ہو گئے بے اختیار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: دیا مرزا نے اپنے نام کے پیچھے چھپی کہانی بیان کردی
احساس کی کمی
نہ جانے کیا ہو جب احساس ہو کبھی تم کو
تمھارے ظلم و ستم کے شکار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: مشاہد حسین سید نے ٹرمپ کے 2026 کے الیکشن ہارنے کی پیشگوئی کردی
خدا کی دعا
خدا کرے کہ یہ تیری سمجھ میں آجائے
کہ کر رہے ہیں تِرا انتظار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اوورسیز پاکستانیوں کے ذریعے سول نافرمانی اور بائیکاٹ تحریک سے کیا مقصد رکھتے ہیں؟
قصور وار محبّت
قصور وارِ محبّت تو کتنے ہیں راغبؔ
عذابِ ہجر کے زیرِ حصار ہم ہی کیوں
کلام کا ماخذ
کلام : افتخار راغبؔ (ریاض، سعودی عرب)








