چمن میں ہو گئے بے اختیار ہم ہی کیوں۔۔۔
غبار کی مانند
نگاہِ وقت میں مثلِ غبار ہم ہی کیوں
بکھر رہے ہیں سرِ رہ گزار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: بیٹی کی شادی پر 4 ارب کی سلامی لینے والے بیوروکریٹ کا نام سینئر تجزیہ کار عامر راؤ سامنے لے آئے۔
چمن کی آبیاری
جگر کے خون سے ہم نے ہی اس کو سینچا تھا
چمن میں ہو گئے بے اختیار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: پنڈی ٹیسٹ: افریقی ٹیم 404 رنز پر آؤٹ، پاکستان کے خلاف 71 رنز کی برتری
احساس کی کمی
نہ جانے کیا ہو جب احساس ہو کبھی تم کو
تمھارے ظلم و ستم کے شکار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو نئی وفاقی جیل منتقل کیا جارہاہے : سہیل وڑائچ
خدا کی دعا
خدا کرے کہ یہ تیری سمجھ میں آجائے
کہ کر رہے ہیں تِرا انتظار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: وہاڑی ؛ 11 جولائی کو مقامی تعطیل کا اعلان
قصور وار محبّت
قصور وارِ محبّت تو کتنے ہیں راغبؔ
عذابِ ہجر کے زیرِ حصار ہم ہی کیوں
کلام کا ماخذ
کلام : افتخار راغبؔ (ریاض، سعودی عرب)








