چمن میں ہو گئے بے اختیار ہم ہی کیوں۔۔۔
غبار کی مانند
نگاہِ وقت میں مثلِ غبار ہم ہی کیوں
بکھر رہے ہیں سرِ رہ گزار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا اپنا اردو چیٹ جی پی ٹی لانچ، نوجوان پاکستانی نے امریکا میں رہتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا اردو اے آئی ماڈل بنا ڈالا
چمن کی آبیاری
جگر کے خون سے ہم نے ہی اس کو سینچا تھا
چمن میں ہو گئے بے اختیار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن شدہ مریض کی گرفتاری، سپریم کورٹ کا اظہارِ برہمی
احساس کی کمی
نہ جانے کیا ہو جب احساس ہو کبھی تم کو
تمھارے ظلم و ستم کے شکار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور امریکہ میں تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے پر اتفاق
خدا کی دعا
خدا کرے کہ یہ تیری سمجھ میں آجائے
کہ کر رہے ہیں تِرا انتظار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے ارشد ندیم کا اکاؤنٹ بھی بلاک کردیا
قصور وار محبّت
قصور وارِ محبّت تو کتنے ہیں راغبؔ
عذابِ ہجر کے زیرِ حصار ہم ہی کیوں
کلام کا ماخذ
کلام : افتخار راغبؔ (ریاض، سعودی عرب)








