چمن میں ہو گئے بے اختیار ہم ہی کیوں۔۔۔
غبار کی مانند
نگاہِ وقت میں مثلِ غبار ہم ہی کیوں
بکھر رہے ہیں سرِ رہ گزار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: ماہرہ علی کی “کلرز آف پاکستان” پینٹنگ نمائش جدہ کے ادھم آرٹ گیلری میں
چمن کی آبیاری
جگر کے خون سے ہم نے ہی اس کو سینچا تھا
چمن میں ہو گئے بے اختیار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سیلاب سے اموات کی تعداد 118 ہوگئی، 47لاکھ سے زائد افراد متاثر
احساس کی کمی
نہ جانے کیا ہو جب احساس ہو کبھی تم کو
تمھارے ظلم و ستم کے شکار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: صدارت کا نظام ماضی میں ناکام رہا اور آئندہ بھی نہیں چل سکتا، مولانا فضل الرحمان
خدا کی دعا
خدا کرے کہ یہ تیری سمجھ میں آجائے
کہ کر رہے ہیں تِرا انتظار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز نے مثالی گاؤں پراجیکٹ کی جلد از جلد تکمیل کیلئے ڈیڈ لائن طلب کرلی
قصور وار محبّت
قصور وارِ محبّت تو کتنے ہیں راغبؔ
عذابِ ہجر کے زیرِ حصار ہم ہی کیوں
کلام کا ماخذ
کلام : افتخار راغبؔ (ریاض، سعودی عرب)








