چمن میں ہو گئے بے اختیار ہم ہی کیوں۔۔۔
غبار کی مانند
نگاہِ وقت میں مثلِ غبار ہم ہی کیوں
بکھر رہے ہیں سرِ رہ گزار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں ژالہ باری کے بعد گاڑیوں کی ونڈ اسکرین اور شیشوں کی قیمتوں میں اضافہ، شہری نئی پریشانی میں مبتلا
چمن کی آبیاری
جگر کے خون سے ہم نے ہی اس کو سینچا تھا
چمن میں ہو گئے بے اختیار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: تعلیم اور کیریئر ایکسپو، فیوچر فیسٹ کا انعقاد 3 اور 4 نومبر 2024 کو پاکستان ایسوسی ایشن دبئی میں ہو گا۔
احساس کی کمی
نہ جانے کیا ہو جب احساس ہو کبھی تم کو
تمھارے ظلم و ستم کے شکار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: واپس بھیجنے سے روکا جائے، پاکستانیوں سے شادی کرنے والی 3 افغان خواتین عدالت پہنچ گئیں۔
خدا کی دعا
خدا کرے کہ یہ تیری سمجھ میں آجائے
کہ کر رہے ہیں تِرا انتظار ہم ہی کیوں
یہ بھی پڑھیں: 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق کیس، 3مارچ تک وفاقی حکومت سے جواب طلب
قصور وار محبّت
قصور وارِ محبّت تو کتنے ہیں راغبؔ
عذابِ ہجر کے زیرِ حصار ہم ہی کیوں
کلام کا ماخذ
کلام : افتخار راغبؔ (ریاض، سعودی عرب)








