میرے پاس تم ہو کا اختتام میری مرضی کے مطابق ہوا، ہمایوں سعید
ہمایوں سعید کا انکشاف
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیئر اداکار ہمایوں سعید نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے ماضی کے مقبول ڈرامے ’میرے پاس تم ہو‘ کا اختتام ان کی مرضی کے مطابق ہوا، انہوں نے ہی اپنے کردار ’دانش‘ کو مار دینے کا کہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا پنجگور میں 4 خارجہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
ڈرامے کی تفصیلات
’میرے پاس تم ہو‘ کا آغاز 2019 کے وسط کے بعد ہوا تھا اور اس کی آخری قسط 25 جنوری 2020 کو سینماؤں میں دکھائی گئی تھی۔ ڈرامے میں اہم کردار دانش دل کا دورہ پڑنے کے بعد چل بسے تھے، یہ کردار ہمایوں سعید نے ادا کیا تھا۔
ڈرامے میں مہوش کا کردار عائزہ خان اور شہوار کا کردار عدنان صدیقی نے نبھایا۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی، فضائی کارروائی کے دوران ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی جاں بحق
کہانی کا خلاصہ
ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ مہوش (عائزہ خان) ایک غریب گھرانے کی شادی شدہ خاتون ہیں جو پیسوں کی لالچ میں اپنے شوہر (ہمایوں سعید) کو دھوکا دے کر ان سے طلاق لے لیتی ہیں اور امیر شخص ’شہوار‘ (عدنان صدیقی) سے تعلقات استوار کرکے ان سے شادی کرنے کی خواہش مند ہوتی ہیں۔
ڈرامے کے اختتام پر ہمایوں سعید کے کردار کو مار دیا جاتا ہے۔ اس پر شائقین نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ دانش کو نہیں مارنا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ گیا۔
اختتام کے پیچھے کا راز
اب تقریبا پانچ سال بعد ہمایوں سعید نے انکشاف کیا ہے کہ مذکورہ ڈرامے کا اختتام ان کی مرضی کے مطابق لکھا گیا، اور انہوں نے ہی اپنے کردار کو مارنے کا کہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا؟
کراچی آرٹس کونسل کی تقریب میں بیان
ہمایوں سعید نے کراچی آرٹس کونسل آف پاکستان کی جانب سے سترہویں اردو کانفرنس کے ایک سیشن میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہی ’میرے پاس تم ہو‘ کے ڈرامے کے اختتام پر دانش کے کردار کو مارنے کا کہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی کا نئے اسرائیلی قانون پر افسوس کا اظہار
کردار کی نوعیت
اداکار کا کہنا تھا کہ ڈرامے میں ان کا کردار ایسا تھا کہ ان کے ساتھ کوئی دوسری خاتون رہ نہیں سکتی تھی، اسی لئے انہوں نے اس کردار کو مارنے کا مشورہ دیا۔
ہمایوں سعید کے مطابق، ان کا کردار ایک غریب شخص کا تھا جو اپنی بیوی کی خواہشات پوری نہیں کر سکتا تھا، لہذا دوسری خاتون بھی اس کردار کے ساتھ نہ رہ پاتی۔
لکھاری اور ہدایت کار سے بات چیت
اداکار نے کہا کہ اپنے کردار کی سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے، انہوں نے لکھاری اور ہدایت کار کو کہا کہ ان کے کردار کو مار دیا جائے۔








