آپ کیا ان کو جھکا سکتے ہیں؟
خاک میں مجھ کو ملا سکتے ہیں
آپ دل توڑ کے جا سکتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: جے یو آئی نے صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس کے اجرا کو حکومتی مکاری اور جمہوریت کی توہین قرار دے دیا
زہر قاتل ہیں غزالی آنکھیں
آپ کیا ان کو جھکا سکتے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: ڈسٹرکٹ فٹ بال ایسوسی ایشن لاہور کا پہلا جنرل کونسل اجلاس، کھیل کے فروغ کے لیے مشاورت
یہ رقیبانِ محبت مجھ کو
تیری نظروں میں گرا سکتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: شرجیل میمن لاہور آئیں، دکھاتے ہیں پنجاب کی ترقی اور کام، تاکہ وہ بھی سیکھ سکیں: عظمٰی بخاری
اذیت و حیات
اس اذیت میں گذاری ہے حیات
دوست بھی چھوڑ کے جا سکتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان
عشق کی سکون
عشق میں جس نے سکوں لوٹا ہے
نیند واپس وُہی لا سکتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: پٹرول کی قیمت میں 45 روپے فی لیٹر اضافے کا خدشہ
یاد جاناں
یاد جاناں کے بھڑکتے شعلے
جسم سارا ہی جلا سکتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: عید الفطر کب ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے متوقع تاریخ بتا دی
آس کی عمر
عمر بھر آس میں رکھنے والے
میری میت پہ تو آ سکتے ہیں
کہانی کا خاتمہ
ہاتھ تو کھینچ لے بیشک مضطر
وہ تو ہونٹوں سے پلا سکتے ہیں
کلام: ارشد علی مضطر (مٹیاری، سندھ)








