آپ کیا ان کو جھکا سکتے ہیں؟
خاک میں مجھ کو ملا سکتے ہیں
آپ دل توڑ کے جا سکتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا بدلتا عالمی کردار: امن کی سفارتکاری
زہر قاتل ہیں غزالی آنکھیں
آپ کیا ان کو جھکا سکتے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کا بسنت کے حوالے سے تمام حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا حکم
یہ رقیبانِ محبت مجھ کو
تیری نظروں میں گرا سکتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: عدالتوں میں مقدمات سیاسی بنیادوں پر یا انتظامیہ کے کہنے پر آگے پیچھے کیے جائیں گے تو اس سے عدالتوں کی ساکھ متاثر ہوگی،اسد قیصر
اذیت و حیات
اس اذیت میں گذاری ہے حیات
دوست بھی چھوڑ کے جا سکتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: پنجاب ایسڈ کنٹرول بل 2025 قائمہ کمیٹی سے منظور، خواتین کے تحفظ کی جانب اہم پیش رفت
عشق کی سکون
عشق میں جس نے سکوں لوٹا ہے
نیند واپس وُہی لا سکتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس نے شوہر کو قتل کرنے والی نوجوان بیوی اور اس کے آشنا کو گرفتار کر لیا
یاد جاناں
یاد جاناں کے بھڑکتے شعلے
جسم سارا ہی جلا سکتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: بھارت عالمی محاذ پر تنہا، امریکی جریدے فارن افیئرز نے بھی مودی کی انتہا پسند پالیسیوں اور سفارتی ناکامیوں پر سنگین سوالات اٹھا دیئے
آس کی عمر
عمر بھر آس میں رکھنے والے
میری میت پہ تو آ سکتے ہیں
کہانی کا خاتمہ
ہاتھ تو کھینچ لے بیشک مضطر
وہ تو ہونٹوں سے پلا سکتے ہیں
کلام: ارشد علی مضطر (مٹیاری، سندھ)








