کہو تو لوٹ جاتے ہیں!۔۔۔
پہلا سوال
کہو تو لوٹ جاتے ہیں!
ابھی تو بات لمحوں تک ہے، سالوں تک نہیں آئی
ابھی مسکانوں کی نوبت بھی، نالوں تک نہیں آئی
ابھی تو کوئی مجبوری، خیالوں تک نہیں آئی
ابھی تو گرد پیروں تک ہے، بالوں تک نہیں آئی
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: سانحہ 9 مئی، مختلف مقدمات میں ملوث ہزاروں افراد کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کردیئے گئے
دوسرا سوال
چلو اک فیصلہ کرنے، شجر کی اور جاتے ہیں
ابھی کاجل کی ڈوری۔ سرخ گالوں تک نہیں آئی
زباں دانتوں تلک ہے، زہر پیالوں تک نہیں آئی
ابھی تو مشک کستوری غزالوں تک نہیں آئی
ابھی روداد بے عنواں
ہمارے درمیاں ہے دنیا والوں تک نہیں آئی
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں 50 ایکٹر اراضی پر پاکستان کی سب سے بڑی نرسری تکمیل کے قریب، وزیر داخلہ محسن نقوی کا سی ڈی اے ماڈل نرسری کا دورہ
تیسرا سوال
ابھی نزدیک ہیں گھر اور منزل دور ہے اپنی
مبادا نار ہو جائے یہ ہستی نور ہے اپنی
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز کا قونصلیٹ جنرل آف پاکستان دبئی کا دورہ، خدمات کا جائزہ لیا
چوتھا سوال
یہ رستہ پیار کا رستہ رسن کا دار کا رستہ
بہت دشوار ہے جاناں۔ ۔ ۔ ۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان ؛ سکواڈ پر حملے میں 5 پولیس اہلکار زخمی، ڈی پی او محفوظ رہے
پانچواں سوال
کہ اس رستے کا ہر ذرہ بھی اک کہسار ہے جاناں
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: کون سے شعبے کی ترقی رہی؟ اقتصادی جائزہ کو حتمی شکل دے دی گئی
چھٹا سوال
میرے بارے نہ کچھ سوچو مجھے طے کرنا آتا ہے
رسن کا، دار کا رستہ
یہ آسیبوں بھرا رستہ، یہ اندھی غار کا رستہ
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے میں کشیدگی میں کمی اور فوری مذاکرات پر زور
ساتواں سوال
تمہارا نرم و نازک ہاتھ ہوگر میرے ہاتھوں میں
تو میں سمجھوں کہ جیسے دو جہاں ہیں میری مٹھی میں
تمہارا قرب ہو تو، مشکلیں کافور ہو جائیں
یہ اندھے اور کالے راستے پر نور ہو جائیں
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی صدر نے ٹرمپ کی نیتن یاہو کو معاف کرنے کی درخواست مسترد کردی
آٹھواں سوال
تمہارے گیسوؤں کی چھاؤں مل جائے
تو سورج سے الجھنا بات ہی کیا ہے
اٹھا لو اپنا سایہ تو، میری اوقات ہی کیا ہے؟
میرے بارے نہ کچھ سوچو، تم اپنی بات بتلاؤ
کہو !
تو چلتے رہتے ہیں
آخری سوال
کہو !!
تو لوٹ جاتے ہیں !!
کلام :امجد اسلام امجد








