کہو تو لوٹ جاتے ہیں!۔۔۔
پہلا سوال
کہو تو لوٹ جاتے ہیں!
ابھی تو بات لمحوں تک ہے، سالوں تک نہیں آئی
ابھی مسکانوں کی نوبت بھی، نالوں تک نہیں آئی
ابھی تو کوئی مجبوری، خیالوں تک نہیں آئی
ابھی تو گرد پیروں تک ہے، بالوں تک نہیں آئی
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: کویت میں لائیو شو کے دوران ڈیلیوری بوائے سیٹ پر پہنچ گیا
دوسرا سوال
چلو اک فیصلہ کرنے، شجر کی اور جاتے ہیں
ابھی کاجل کی ڈوری۔ سرخ گالوں تک نہیں آئی
زباں دانتوں تلک ہے، زہر پیالوں تک نہیں آئی
ابھی تو مشک کستوری غزالوں تک نہیں آئی
ابھی روداد بے عنواں
ہمارے درمیاں ہے دنیا والوں تک نہیں آئی
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک بناتے ہوئے ٹرین کی زد میں آکر دو لڑکیاں جاں بحق
تیسرا سوال
ابھی نزدیک ہیں گھر اور منزل دور ہے اپنی
مبادا نار ہو جائے یہ ہستی نور ہے اپنی
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد پر فرد جرم عائد
چوتھا سوال
یہ رستہ پیار کا رستہ رسن کا دار کا رستہ
بہت دشوار ہے جاناں۔ ۔ ۔ ۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں خاتون ڈاکٹر نے امریکہ کا ویزا مسترد ہونے پر خود کشی کر لی
پانچواں سوال
کہ اس رستے کا ہر ذرہ بھی اک کہسار ہے جاناں
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: آسکر کی تقریب میں ہسپانوی اداکار کی ٹرمپ اور نیتن یاہو پر کڑی تنقید، فلسطین کے حق میں نعرہ لگادیا
چھٹا سوال
میرے بارے نہ کچھ سوچو مجھے طے کرنا آتا ہے
رسن کا، دار کا رستہ
یہ آسیبوں بھرا رستہ، یہ اندھی غار کا رستہ
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے پاس نہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی دریاؤں کا رخ موڑنے کی، معروف بھارتی صحافی کا انکشاف
ساتواں سوال
تمہارا نرم و نازک ہاتھ ہوگر میرے ہاتھوں میں
تو میں سمجھوں کہ جیسے دو جہاں ہیں میری مٹھی میں
تمہارا قرب ہو تو، مشکلیں کافور ہو جائیں
یہ اندھے اور کالے راستے پر نور ہو جائیں
یہ بھی پڑھیں: نومئی کیسز: 49 ملزمان کی سزاوں کے خلاف اپیلیں سماعت کیلئے مقرر
آٹھواں سوال
تمہارے گیسوؤں کی چھاؤں مل جائے
تو سورج سے الجھنا بات ہی کیا ہے
اٹھا لو اپنا سایہ تو، میری اوقات ہی کیا ہے؟
میرے بارے نہ کچھ سوچو، تم اپنی بات بتلاؤ
کہو !
تو چلتے رہتے ہیں
آخری سوال
کہو !!
تو لوٹ جاتے ہیں !!
کلام :امجد اسلام امجد








