پی ٹی آئی رہنماؤں کی اکثریت فوری طورپر سول نافرمانی تحریک کی حامی نہیں، مزید مشاورت کا فیصلہ
اسلام آباد میں سیاسی صورتحال
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کی اکثریت فوری طور پر سول نافرمانی تحریک کی حامی نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رہنماؤں اور کور کمیٹی کی سول نافرمانی تحریک پر مشاورت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: سونا ۳۲۰۰ روپے مہنگا، فی تولہ قیمت ۴ لاکھ ۶۷ ہزار ۹۶۲ روپے ہو گئی
کی جماعت کی حکمت عملی
ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی رہنماؤں کی اکثریت فوری طور پر سول نافرمانی تحریک کی حمایت نہیں کرتی، اور دسمبر میں اس تحریک کے بجائے پہلے پارٹی لائحہ عمل طے کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: منور فاروقی کے بیٹے میں کاوا ساکی بیماری کا انکشاف، یہ بچوں کو کس طرح متاثر کرتی ہے؟ وہ باتیں جو تمام والدین کو ضرور معلوم ہونی چاہئیں
پارٹی ارکان کا موقف
ارکان کا مؤقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے سامنے تحریک کی کال چند دن کیلئے مؤخر کرنے کا کہا جائے۔ پارٹی قیادت 24 نومبر کے احتجاج کے نتائج کے بعد دوبارہ اپنی حکمت عملی تیار کرنا چاہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پلڈاٹ نے سال 2025 کے اختتام پر جمہوریت کے معیار پر جائزہ رپورٹ جاری کر دی
ملاقات اور مشاورت
پارٹی ذرائع نے بتایاکہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد، کال پر پارٹی قیادت دوبارہ مشاورت کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی لیڈر شپ نے مولانا فضل الرحمان کو دھوکا دیا، فواد چوہدری
علیمہ خان کے بیانات
خیال رہے کہ چند روز قبل بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پھر سول نافرمانی کی تحریک شروع کریں گے۔
عمران خان کی مہلت
عمران خان نے اپنے مطالبات کے لیے 14 دسمبر تک کا وقت دیا ہے۔








