پی ٹی آئی رہنماؤں کی اکثریت فوری طورپر سول نافرمانی تحریک کی حامی نہیں، مزید مشاورت کا فیصلہ
اسلام آباد میں سیاسی صورتحال
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کی اکثریت فوری طور پر سول نافرمانی تحریک کی حامی نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رہنماؤں اور کور کمیٹی کی سول نافرمانی تحریک پر مشاورت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: تیراہ واقعہ: شہداء کے لواحقین کے لیے 1 کروڑ، زخمیوں کے لیے 25 لاکھ فی کس امداد کا اعلان
کی جماعت کی حکمت عملی
ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی رہنماؤں کی اکثریت فوری طور پر سول نافرمانی تحریک کی حمایت نہیں کرتی، اور دسمبر میں اس تحریک کے بجائے پہلے پارٹی لائحہ عمل طے کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیس بک مارکیٹ پلیس پر انسانی ہڈیوں کی خریدو فروخت پر خاتون گرفتار، کھوپڑی کتنے میں بیچ رہی تھی؟
پارٹی ارکان کا موقف
ارکان کا مؤقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے سامنے تحریک کی کال چند دن کیلئے مؤخر کرنے کا کہا جائے۔ پارٹی قیادت 24 نومبر کے احتجاج کے نتائج کے بعد دوبارہ اپنی حکمت عملی تیار کرنا چاہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کردی
ملاقات اور مشاورت
پارٹی ذرائع نے بتایاکہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد، کال پر پارٹی قیادت دوبارہ مشاورت کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایک سیاسی جماعت اداروں کیخلاف زہر اگل رہی ہے، آج اڈیالا جیل بیٹھے ہیں تو یہ اللّٰہ کی پکڑ ہے: احسن اقبال
علیمہ خان کے بیانات
خیال رہے کہ چند روز قبل بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پھر سول نافرمانی کی تحریک شروع کریں گے۔
عمران خان کی مہلت
عمران خان نے اپنے مطالبات کے لیے 14 دسمبر تک کا وقت دیا ہے۔








