میری قومی ٹیم میں سلیکشن ہونی ہوگی تو ہوجائے گی، نہیں ہونی ہوگی تو نہیں ہوگی، سرفراز احمد
سرفراز احمد کا قومی ٹیم میں سلیکشن کے حوالے سے موقف
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی سرفراز احمد نے کہا ہے کہ ایسا کبھی نہیں کہا کہ پاکستان کےلیے فلاں فارمیٹ کھیلوں گا اور فلاں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری قومی ٹیم میں سلیکشن ہونی ہوگی تو ہوجائے گی، ورنہ نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر لیکن بارش کہاں ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے بتادیا
کرکٹ چھوڑنے کا فیصلہ
سابق کپتان کا کہنا تھا کہ کرکٹ چھوڑنے کا فیصلہ میرا ذاتی ہے۔ جب مجھے لگے گا کہ وقت آگیا ہے، تو میں چھوڑ دوں گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ مستقبل میں کرکٹ ہی سے کسی فیلڈ میں نظر آئوں گا۔ سرفراز نے مزید کہا کہ ان کے کیریئر میں کوئی افسوس نہیں ہے اور اللّٰہ نے انہیں بہت عزت اور کامیابیاں دیں۔
یہ بھی پڑھیں: برفیلی ہوا جسم کو چھری کی طرح کاٹ رہی تھی، شکار کی تھرل میں سردی کا احساس ذرا کم ہی تھا، ہلکی ہلکی دھند، رات کا پہلا پہر ہر طرف سناٹا، 2 ہی آوازیں تھیں
ٹیم سلیکشن پر گفتگو
ٹیم سلیکشن پر بات کرتے ہوئے سرفراز نے کہا کہ چیمپئنز کپ کے ذریعے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کےلیے کام شروع ہوگیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کپتان کی رائے سلیکشن میں اہم ہوتی ہے، جبکہ سلیکشن کمیٹی اور کپتان مل کر اسکواڈ بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوبر رجب بٹ کو تشدد کا نشانہ بنانے والے وکلا کے لائسنس معطل کرنے کی درخواست جمع کروادی گئی
مینٹورশپ کا تجربہ
جیو نیوز کے مطابق سرفراز نے بطور مینٹور سکواڈ کے کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرنے کے تجربے کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے تین چار ماہ میں بطور مینٹور یہ تجربہ اچھا رہا ہے اور وہ وومن کھلاڑیوں کے ساتھ بھی کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قاہرہ میں آخری دن گزار کے مجھے فرعونوں کے اصلی مسکن “الأقصر” جانا تھا، بڑے فرعونوں کے اصل مقبروں میں جا کر تاریخ کے اوارق کھنگالنے تھے۔
کھلاڑیوں کی رہنمائی
سرفراز کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو اچھی رہنمائی دینا بطور مینٹور ان کا مقصد ہے۔ وہ کھلاڑیوں کے ساتھ ون ٹو ون سیشن کرتے ہیں اور پریشر کی صورتحال میں کھیلنے کا تجربہ بھی ان کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی میں پرو ایکٹیو رہنے کی ضرورت
سرفراز نے یہ بھی کہا کہ ٹی ٹوئنٹی میں ہر وقت پرو ایکٹیو رہنا پڑتا ہے اور صورتحال اور کنڈیشنز کو جلد سمجھنا ضروری ہے۔ بطور کپتان، وہ بولر اور بیٹر کے ساتھ میدان میں بات چیت کر لیتے تھے، لیکن بطور مینٹور بار بار کھلاڑیوں کو پیغام دینا اچھا نہیں سمجھتے۔








