فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کا کیس،زیرحراست افراد کی عام جیلوں میں منتقل کرنے کی لطیف کھوسہ کی استدعا مسترد
سپریم کورٹ کی سماعت: فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کا کیس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل سے متعلق کیس میں زیرحراست افراد کی عام جیلوں میں منتقلی کی لطیف کھوسہ کی استدعا مسترد کردی۔
یہ بھی پڑھیں: جب آپ سوتے ہیں تو یہ کیڑے آپ کے چہرے پر پارٹی کرتے ہیں
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق، سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ یہ سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تشکیل دیئے گئے سات رکنی آئینی بنچ نے کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے آج کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی، جس میں بتایا گیا کہ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث صحت کی خرابی کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: آئرلینڈ کا آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے لیے اپنے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان
لطیف کھوسہ کی درخواست
آئینی بنچ نے لطیف کھوسہ کی زیر حراست افراد کی عام جیلوں میں منتقلی کی استدعا مسترد کردی۔ لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ عام جیلوں میں زیر حراست افراد سے کم از کم ملاقات ہوسکتی ہے۔ جسٹس امین الدین نے اس پر کہا کہ ملاقات کے حوالے سے اٹارنی جنرل پہلے ہی یقین دہانی کر چکے ہیں، اور ہمیں فی الحال مقدمہ سننے پر توجہ دینی چاہیے۔
سماعت کی آئندہ تاریخ
سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔







