حکومت خود کو مضبوط کرنا چاہتی ہے تو کیا کرنا ہو گا ۔۔۔؟ فیصل واوڈا نے اہم “مشورہ ” دیدیا
حکومت کو مضبوط کرنے کے مشورے
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) حکومت خود کو مضبوط کرنا چاہتی ہے تو کیا کرنا ہو گا؟ سینیٹر فیصل واوڈا نے اہم "مشورہ" دیدیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں دوران چیکنگ کار سوار خاتون نے تلخ کلامی کے بعد بوتل مارکر لیڈی اہلکار کا سر پھاڑ دیا
سینیٹر فیصل واوڈا کا موقف
سینیٹر فیصل واوڈا نے "دی نیوز" کے انصار عباسی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے ان کی ملاقاتوں کا مقصد شہباز شریف کی حکومت کو کمزور کرنا یا انہیں ہٹانا نہیں۔ صرف یہ چاہتے ہیں کہ حکومت اپنے تمام اتحادیوں کے مینڈیٹ کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ میرا ایجنڈا نظام مضبوط کرکے پاکستان کی خدمت کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا فیس میں اضافہ، واپس جانے والے بھارتی مسافر جہاز سے اتر گئے
احتجاج اور دھرنوں کا خاتمہ
سینیٹر فیصل واوڈا نے یہ پیشکش بھی کی کہ وہ احتجاج اور دھرنوں کی سیاست کے خاتمے کیلئے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے پل کے طور پر کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں اسٹیبلشمنٹ نے یہ سب کرنے کیلئے کہا ہے، تو واوڈا نے جواب دیا کہ انہیں ایسا کرنے کیلئے کچھ نہیں کہا گیا، نہ ہی یہ کہا گیا ہے کہ یہ سب نہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی، آج ملک بھر میں ریلیاں اور جلوس نکالے جائیں گے
اتحادیوں کا احترام ضروری
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت دیگر اتحادی جماعتوں (پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، بی اے پی) کے مینڈیٹ کا احترام نہیں کرتی تو وہ غیر مقبول رہے گی۔ اگر حکومت خود کو مضبوط کرنا چاہتی ہے تو اسے نہ صرف اپنے تمام اتحادیوں بلکہ اپوزیشن کے مینڈیٹ کا بھی احترام کرنا ہوگا۔ ان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملاقاتوں نے حکومت میں موجود کئی لوگوں کو پریشان کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ہسپتالوں میں سٹیٹ آف دی آرٹ ریفرل سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ، وزیراعلیٰ مریم نوازنے جامع پلان طلب کر لیا
پاکستان کا خوشحال مستقبل
"جنگ" کے مطابق پی ٹی آئی کے حوالے سے فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ پارٹی ڈیل کیلئے بے تاب بیٹھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے آغاز کیلئے پل کا کردار ادا کرنے کو تیار ہوں، کیونکہ پاکستان اور اس کے عوام کے خوشحال مستقبل کیلئے احتجاج، دھرنوں اور تشدد کی سیاست ختم ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ عمران خان کی جان کو ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور پی ٹی آئی میں شامل کچھ لوگوں سے خطرہ ہے۔
آنے والے رابطے
سینیٹر فیصل واوڈا نے انکشاف کیا کہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں وہ دیگر سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں بشمول ٹی ایل پی، جماعت اسلامی، محمود خان اچکزئی، سردار اختر مینگل، خالد مگسی اور دیگر سے ملاقات کریں گے۔








