ایم کیو ایم پاکستان کا سندھ حکومت کی کرپشن کے خلاف احتجاج کا اعلان
ای ایم کیو ایم کی سندھ حکومت پر الزام تراشی
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ حکومت پر کرپشن اور ناکامیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے سندھ اسمبلی کے اندر اور باہر احتجاج کا اعلان کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چین اور پیرو لاطینی امریکہ کو ایشیاءسے ملانے کیلئے نئی زمینی اور سمندری راہداری کی تعمیر کو تیار
علی خورشیدی کا بیان
بہادر آباد مرکز میں علی خورشیدی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کل 9 دسمبر کو دنیا بھر میں عالمی اینٹی کرپشن ڈے منایا جاتا ہے۔ جب پاکستان کی بات کرتے ہیں تو اینٹی کرپشن کے معاملے میں سندھ اور پیپلز پارٹی کی کرپشن کا ذکر سب سے پہلے آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی پیرول پر رہائی کی درخواست اعتراض لگا کر واپس کردی گئی
زرداری کا موقف
انہوں نے مزید کہا کہ کل صدر پاکستان آصف علی زرداری نے کہا کہ کرپشن پاکستان کے لئے تباہ کن ہے اور اس کے خاتمے کے لئے احتساب ضروری ہے۔ زرداری صاحب نے سچ کہا لیکن جب انہوں نے یہ بیان دیا تو مجھے ہنسی آگئی۔ سندھ حکومت کے 16 سالہ دور میں ہر محکمہ کرپشن کا شکار ہے اور ہر محکمہ میں بدعنوانی کو سرکاری سطح پر فروغ دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت آصف علی زرداری کی کربلا میں روضۂ حضرت امام حسینؓ اور حضرت عباسؓ پر حاضری
کرپشن کی تفصیلات
اس کرپشن کو باقاعدہ طور پر نوٹیفائی کر دینا چاہئے کیونکہ یہ عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ہے جو ان کی جیب سے نکل کر کرپشن کی نذر ہو رہا ہے۔ سندھ میں کرپشن ایک کلچر بن چکا ہے؛ میرے پاس مختلف محکموں کی آڈیٹر جنرل رپورٹس ہیں جن کے مطابق کے ڈی اے سمیت دیگر محکموں میں الاٹمنٹ غیر قانونی طریقے سے کی گئی ہیں اور بھرتیاں بھی جعلی اور غیر قانونی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی صدر کو ڈیل کیلئے مشورہ دے دیا
26ویں آئینی ترمیم اور پیپلز پارٹی
علی خورشیدی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کی جدوجہد سے وجود میں آئی لیکن پیپلز پارٹی اسے شہید بینظیر بھٹو کے نظریے کی تکمیل قرار دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سندھ حکومت کی کارکردگی چارٹر آف ڈیموکریسی کے اصولوں کے خلاف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: توڑ پھوڑ کیس: عمر ایوب اور زرتاج گل کی عبوری ضمانتوں میں توسیع
پارلیمانی کمیٹی کے حالات
انہوں نے مزید کہا کہ محکموں میں پہلے کرپشن کی جاتی ہے، پھر اس کا ریکارڈ بنایا جاتا ہے اور پھر پی اے سی میں بھی کرپشن کی جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے مطابق پی اے سی میں اچھا کام ہو رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہیلتھ سمیت کئی محکمے پی اے سی کو جواب دہ نہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کی ناکامی
علی خورشیدی نے کہا کہ ہر محکمہ جعلی بھرتیوں اور عوامی پیسوں کے بے دریغ استعمال میں ملوث ہے۔ اینٹی کرپشن کا محکمہ بھی کرپشن کو فروغ دیتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے 8 سالہ دور میں یہ سب ان کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے۔ اگر وہ اس کرپشن سے لاعلم ہیں تو انہیں جہاد کرنا چاہئے۔








