شام میں حافظ الاسد کا مقبرہ جلا دیا گیا
مقبرہ حافظ الاسد کو آگ لگائی گئی
دمشق (ڈیلی پاکستان آن لائن) معزول شامی صدر بشار الاسد کے والد، سابق صدر حافظ الاسد کے مقبرے کو ان کے آبائی شہر قرداحہ میں نذرِ آتش کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ جانے کی بجائے ہنگامی طور پر سعودی عرب پہنچ گئے” سینئر صحافی رضوان رضی کا دعویٰ
فوجی وردیوں میں ملبوس جنگجو
العربیہ کے مطابق خبر ایجنسی اے ایف پی نے مزار کو آگ لگنے کے واقعے کی ویڈیو حاصل کی ہے۔ ویڈیو میں جنگجوؤں کو فوجی وردیوں میں ملبوس اور نوجوانوں کو مزار کو جلتا ہوا دیکھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونا مزید مہنگا ہوگیا؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں بڑا اضافہ
انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ
شام میں انسانی حقوق کے مبصر گروپ سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے اے ایف پی کو بتایا کہ اپوزیشن نے الاسد کے علوی فرقے کے علاقے صوبہ لاذقیہ میں واقع اس مقبرے کو آگ لگائی۔ اے ایف پی کی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ مقبرے کے کچھ حصے آگ کی لپیٹ میں تھے اور تباہ ہو چکے تھے، جبکہ حافظ الاسد کا مقبرہ جل کر تباہ ہو گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور؛ 2سال کی سزا کاٹنے کے بعد ملزم نے بیوی، بیٹی، سسر سمیت 4افراد قتل کر دیئے
فنِ تعمیر کی خاصیت
یہ وسیع و عریض مزار ایک پہاڑی پر بنایا گیا ہے اور اس کی فنِ تعمیر میں پیچیدہ ڈیزائن اور کئی محرابیں شامل ہیں، جبکہ اس کے بیرونی حصے پر پتھر پر نقش و نگار کندہ ہیں۔
مقبرے میں دیگر افراد کی قبریں
یہ مزار الاسد خاندان کے دیگر افراد کی قبروں کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس میں بشار کے اس بھائی باسل الاسد کی قبر بھی ہے، جنہیں اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا لیکن وہ 1994 میں ایک سڑک حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔








