شام میں حافظ الاسد کا مقبرہ جلا دیا گیا
مقبرہ حافظ الاسد کو آگ لگائی گئی
دمشق (ڈیلی پاکستان آن لائن) معزول شامی صدر بشار الاسد کے والد، سابق صدر حافظ الاسد کے مقبرے کو ان کے آبائی شہر قرداحہ میں نذرِ آتش کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ کے خاتمے کے لیے پیوٹن نے ایسی کیا پیشکش کی تھی جسے ٹرمپ نے مسترد کر دیا ۔۔؟ جانیے
فوجی وردیوں میں ملبوس جنگجو
العربیہ کے مطابق خبر ایجنسی اے ایف پی نے مزار کو آگ لگنے کے واقعے کی ویڈیو حاصل کی ہے۔ ویڈیو میں جنگجوؤں کو فوجی وردیوں میں ملبوس اور نوجوانوں کو مزار کو جلتا ہوا دیکھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وہ دن دور نہیں جب بانی پی ٹی آئی رہا ہو کر اپنی قوم کے درمیان ہوں گے، عمر ایوب
انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ
شام میں انسانی حقوق کے مبصر گروپ سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے اے ایف پی کو بتایا کہ اپوزیشن نے الاسد کے علوی فرقے کے علاقے صوبہ لاذقیہ میں واقع اس مقبرے کو آگ لگائی۔ اے ایف پی کی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ مقبرے کے کچھ حصے آگ کی لپیٹ میں تھے اور تباہ ہو چکے تھے، جبکہ حافظ الاسد کا مقبرہ جل کر تباہ ہو گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کوریائی آئی ٹی کی دنیا میں بادشاہ کی حیثیت رکھتے ہیں، تعلیم میں سو فی صد پڑھے لکھے لوگ، با شعور قوم کا با شعور ملک، چینی بہترین دوست ہیں
فنِ تعمیر کی خاصیت
یہ وسیع و عریض مزار ایک پہاڑی پر بنایا گیا ہے اور اس کی فنِ تعمیر میں پیچیدہ ڈیزائن اور کئی محرابیں شامل ہیں، جبکہ اس کے بیرونی حصے پر پتھر پر نقش و نگار کندہ ہیں۔
مقبرے میں دیگر افراد کی قبریں
یہ مزار الاسد خاندان کے دیگر افراد کی قبروں کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس میں بشار کے اس بھائی باسل الاسد کی قبر بھی ہے، جنہیں اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا لیکن وہ 1994 میں ایک سڑک حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔








