سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کیخلاف پی ٹی آئی سمیت دیگر کی درخواستیں خارج کر دیں
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ آئینی بینچ نے پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان سمیت دیگر کی دائر درخواستیں خارج کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: MG کا پک اپ ٹرک پاکستان پہنچ گیا! آتے ہی دھوم مچادی۔۔۔ کیا کیا فیچرز شامل، ممکنہ قیمت کیا ہوگی؟
عدالت کے ریمارکس
تفصیلات کے مطابق جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس ختم ہو چکا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرڈیننس کے بعد پریکٹس اینڈ پروسیجر میں پارلیمنٹ نے قانون سازی کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پتنگ بازی کے سامان کی قیمتوں میں کمی کا امکان، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا
درخواست گزار کا مؤقف
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ آرڈیننس کے تحت کمیٹی کے ایکشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون آجائے تو آرڈیننس خود بخود ختم ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 7 فیصد کمی ریکارڈ
کمیٹی کے فیصلے
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرڈیننس کے تحت بنی کمیٹی ختم ہوگئی، کمیٹی کے فیصلوں کو پاس اینڈ کلوز ٹرانزیکشنز کا تحفظ ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین صدر پاکستان کو آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
درخواست گزاروں کی تفصیلات
واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف گوہر علی خان، افراسیاب خٹک، احتشام الحق اور اکمل باری نے آرڈیننس کے خلاف درخواستیں دائر کی تھیں۔








