فیض حمید کیخلاف فرد جرم، پی ٹی آئی کیلئے خطرے کی گھنٹی، کون کون لپیٹ میں آئے گا
پاکستان تحریک انصاف کی مشکلات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید پر فردِ جرم عائد ہونا اور ان پر تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ رابطوں اور ملک کو انتشار کا شکار کرنے کے الزامات تحریک انصاف اور اس کی قیادت کیلئے مزید مشکلات کھڑی کرنے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون نے شوہر کو قتل کر دیا ، ڈیڑھ سال بعد لاش کہاں سے ملی ؟ تہلکہ خیز انکشاف
سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق تحریک انصاف نے 15 دسمبر سے سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا پلان بنا رکھا ہے لیکن اس سے قبل حکومت سے مذاکرات کیلئے پانچ رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ حکومت بھی تسلیم کر رہی ہے کہ تحریک انصاف بات چیت کیلئے رابطے کر رہی ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ بات چیت ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے اور وہ مفاہمتی ماحول پیدا کرنے کے لئے تحریک انصاف کی بات چیت کی پیشکش قبول کرنے کو تیار ہے مگر تحریک انصاف اس حکومتی دعوے کی تاحال تصدیق نہیں کر رہی۔
یہ بھی پڑھیں: میری بیٹی آپ کو انکل سمجھتی تھی، آپ نے اسے کھلونے کی طرح استعمال کیا: آسٹریلیا میں درجنوں بچیوں کے ریپ کا مجرم عمر قید کی سزا یافتہ
سیاسی قیادت کے ساتھ بات چیت
البتہ یہ بات ضرور دلچسپ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف جو پہلے صرف مقتدرہ سے بات چیت کرنے کیلئے م±صر تھی، اب سیاسی قیادت کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے بھی تیار نظر آتی ہے۔ سینیٹر شبلی فراز نے ایوان میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کے لئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو سب سے بات کرنے کے لئے تیار ہے، ملک کی بہتری اور ترقی کے لئے مل بیٹھ کر بات کریں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت لڑاکا طیاروں کی “ڈاگ فائٹ” حالیہ فضائی تاریخ کی سب سے بڑی اور طویل جھڑپوں میں شامل، سی این این کا دعویٰ
فیض حمید کے خلاف تحقیقات
تحریک انصاف یہ مذاکراتی عمل ایک ایسے وقت میں شروع کرنا چاہتی ہے جب سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف نو مئی کے واقعات میں ملوث ہونے کے معاملے پر تفتیش شروع ہو چکی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کی سیاسی سرگرمیوں، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزیوں اور ریاستی مفاد کو نقصان پہنچانے اور اختیارات کے غلط استعمال پر فردِ جرم عائد ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا کے 6 اضلاع میں 12 خالی بلدیاتی نشستوں پر پولنگ جاری
عدالتی کارروائی اور الزامات
آئی ایس پی آر کے مطابق فیض حمید پر سیاسی عناصر سے ملی بھگت کا بھی الزام ہے اور ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ فیض حمید کے خلاف چارج شیٹ بتا رہی ہے کہ ان کے خلاف بڑی تعداد میں شواہد موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مرحلہ آن پہنچا کہ ان پر فرد جرم عائد کی جائے، اس کے بعد یہ معاملہ اپنے منطقی انجام کو پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے خلاف فتح پر قوم متحد، اتحاد برقرار رکھنے کے لیے عمران خان کی رہائی ناگزیر ہے: بیرسٹر سیف
سول نافرمانی کی تحریک کا مقصد
اگرچہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید پر الزامات کی فہرست طویل ہوتی جا رہی ہے مگر ان پر سب سے بڑا الزام بعد از ریٹائرمنٹ سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ بدامنی اور پ±رتشدد واقعات میں ملوث ہونا ہے۔ تحریک انصاف نے ریاست پر دباﺅ ڈالنے کے لئے سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے، بانی پی ٹی آئی نے سول نافرمانی کی کال سے متعلق اپنا پیغام پارٹی قیادت کو بھجوا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور قازقستان کے درمیان پیٹرولیم، ریلوے اور مصنوعی ذہانت سمیت کئی شعبوں میں تعاون پر اتفاق
سمندر پار پاکستانیوں کے لئے چیلنج
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ یومِ سوگ 14 کے بجائے 15 دسمبر کو منایا جائے گا اور ا±سی روز پارٹی قیادت کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔ اس تحریک میں پہلے مرحلے میں سمندر پار پاکستانیوں کو بیرونِ ملک سے ترسیلاتِ زر بھیجنے سے روکا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کنگسٹن ٹیسٹ، آسٹریلیا نے ویسٹ انڈیز کو 27 رنز پر آل آؤٹ کرکے 176 رنز سے ہرا دیا
ماضی کی ناکامیوں کا ذکر
بانی پی ٹی آئی اس سے قبل پارٹی کی سینئر قیادت پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں جس سے حکومت نے ابھی تک رابطہ نہیں کیا۔ جیل میں صحافیوں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کی مقبولیت 2014ء سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فخر ہے کہ اس ملک کو ایسے وزیراعظم ملے جو خود کو احتساب کیلئے پیش کرتے ہیں: ایمل ولی خان
ترسیلات زر کے اعداد و شمار
سمندر پار پاکستانیوں کے ذریعے ترسیلات زر میں کمی کرنے کا دعویٰ کرنے کے باوجود کے حالیہ اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ ان کی ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے۔ نومبر 2024ء میں مختلف ممالک سے ترسیلات کی صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سمندر پار پاکستانی سیاسی صورتحال کے باوجود رقم بھجوانے میں مصروف ہیں۔
نتیجہ
ماہرین کے مطابق بیرونِ ملک سے پاکستان رقوم بھجوانے کا معاملہ سیاست سے ہٹ کر ضرورت پر مبنی ہے، جو بیرونِ ملک رہ کر ملک کی خدمت کرنے والوں کے گھروں کو چلانے کے لیے ناگزیر ہے۔








