معروف سیاحتی ماہر سلمان جاوید نے “ماحولیاتی فیس” متعارف کروانے کا مشورہ دیدیا
ماحولیات کے تحفظ کے لیے عہد
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف سیاحتی ماہر اور پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر سلمان جاوید نے ورلڈ انٹرنیشنل ماؤنٹین ڈے کے موقع پر کہا کہ ہمیں اس دن عہد کرنا چاہیے کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کریں گے اور اس متعلق زیادہ سے زیادہ آگاہی پھیلائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: 4 ممالک کے وزرائے خارجہ کل اسلام آباد میں ملاقات کریں گے، اسحاق ڈار کی تصدیق
پاکستان کے پہاڑوں کا ماحولیاتی تنوع
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں واقع پہاڑ حیاتیاتی تنوع سے مالا مال ہیں، لیکن ایک دم سے بڑھتی ہوئی مقامی سیاحت، فضلہ تلف کرنے میں بدانتظامی اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ان کا تنوع متاثر ہورہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر، شدید بحران کا خدشہ
محفوظ رہائشی ماحولیاتی اقدامات
انہوں نے تجویز پیش کی کہ ماحول دوست طرزِ عمل جیسے مختص کیمپنگ سائٹس، زرعی جنگلات اور ماحول دوست انفراسٹرکچر کی تعمیر انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے پاکستان کے پہاڑوں میں تحفظ کی کوششوں کے لیے ماحولیاتی فیس متعارف کروانے کا مشورہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: نوشہرہ: گھریلو جھگڑے پر والد کا قتل، 2 سفاک بیٹے گرفتار
کمیونٹی کی شمولیت اور شراکت
اس کے علاوہ انہوں نے کمیونٹی کی شمولیت، گرین انفراسٹرکچر اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت بجلی شعبے کے گردشی قرضے ختم کرنے کے معاہدے کے قریب ہے : اویس لغاری
پائیدار پہاڑی سیاحت کی ترقی
سلمان جاوید کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات پائیدار پہاڑی سیاحت کو فروغ دیں گے۔ قدرتی حسن کی حفاظت کریں گے، پائیدار معاش فراہم کریں گے، اور پاکستان کو ذمہ دارانہ سیاحت کے میدان میں عالمی رہنما کے طور پر پیش کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی بری لاچوٹی سر کرنے والی خواتین کوہ پیما ٹیم کو مبارکباد
مقبل سے آمدنی کے ذرائع
انہوں نے مزید کہا کہ ماؤنٹین اسپورٹس کافی مہنگا شوق مگر چونکہ شوقین لوگ پیسہ خرچ کرتے ہیں، اس لیے رائلٹی میں مناسب اضافہ اور پہاڑی روٹس کو روٹیشنل بنیادوں پر ٹھیکہ دینا آمدنی بڑھانے کا ذریعہ بنے گا، جسے عوامی بہبود پر خرچ کیا جا سکتے ہیں۔
ہزاروں پہاڑوں کی صفائی مہمات کی حوصلہ افزائی
انہوں نے پہاڑوں کی صفائی مہمات کی حوصلہ افزائی کرنے، آلودگی پھیلانے والوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے اور آلودگی کے ذمہ داروں کے لیے رابطہ افسران کو جوابدہ بنانے کی تجاویز بھی دیں۔








