پی آئی اے فلیٹ میں شامل 34 میں سے 17 طیارے گراونڈ، کروڑوں ڈالر کا نقصان
پی آئی اے کے طیارے گراونڈ ہونے کی وجوہات
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کے شعبہ انجینئرنگ کی انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور ناقص کارکردگی کے سبب 34 کے فلیٹ میں سے 17 طیارے گراونڈ ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک زوردار دھماکے سے میرا گھر ہل کر رہ گیا اور اس سے پہلے کہ ہمیں اندازہ ہوتا کہ ۔ ۔ ۔” بھارت کا پاکستان میں حملہ، آزاد کشمیر کے شہری نے آپ بیتی سنادی
طیارے کی اقسام اور گراونڈنگ کی صورتحال
ڈان نیوز کے مطابق بوئنگ 777 کے 12 طیاروں میں سے 7 گراونڈ ہیں، ایئر بس 320 ساختہ 17 طیاروں میں سے 7 گراونڈ ہیں جبکہ 5 اے ٹی آر طیاروں میں سے 3 ناکارہ ہوگئے ہیں۔ صرف اے ٹی آر کے 2 طیارے فلائٹ آپریشنز میں حصہ لے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہماری خارجہ پالیسی نے سلامتی کونسل میں اسرائیل کو معافی مانگنے پر مجبور کر دیا: رانا تنویر حسین
مالی نقصان کا سامنا
ذرائع کے مطابق گراونڈ ہونے والے طیاروں میں زیادہ تر طیارے انجن، لینڈنگ گیئر سمیت دیگر پرزہ جات کی عدم دستیابی کی وجہ سے گراونڈ کئے گئے ہیں، جس کی وجہ سے پی آئی اے کو کروڑوں ڈالر کے نقصان کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی: پی ٹی آئی کارکنان اور پولیس کا مری روڈ پر سامنا
طیاروں کے پرزہ جات کا مسئلہ
پی آئی اے کے زیادہ تر طیارے کئی سال سے گراونڈ ہیں اور ان طیاروں کے زیادہ تر پرزہ جات دوسرے طیاروں میں استعمال کئے جا چکے ہیں۔ پی آئی اے کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پیرس کے لئے آپریٹ ہونے والا جہاز تیار ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے آئی ایم ایف سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا وعدہ کر لیا
فلائٹ آپریشنز کی بحالی
یاد رہے کہ یورپی یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے گزشتہ ماہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کے یورپ میں فلائٹ آپریشن سے پابندی اٹھالی تھی۔ پی آئی اے کے ترجمان نے اس موقع پر کہا تھا کہ پی آئی اے انتظامیہ قوانین اور ضابطوں پر مکمل عمل پیرا رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ارشاد بھٹی نے خاموشی توڑتے ہوئے دوسری شادی کے پیچھے چھپی جذباتی وجہ بیان کر دی
نجکاری کی کوششیں
واضح رہے کہ اربوں روپے کے مالی خسارے سے دوچار قومی ایئرلائن کی نجکاری کے لئے حکومت نے 31 اکتوبر کو بولیاں کھولی تھیں۔ پی آئی اے کے 60 فیصد حصص کی نجکاری کے لئے 85 ارب روپے کی خواہاں حکومت کو ریئل اسٹیٹ مارکیٹنگ کمپنی بلیو ورلڈ سٹی کی جانب سے صرف 10 ارب روپے کی بولی موصول ہوئی تھی۔
مسترد شدہ بولیاں اور نئی تجاویز
بعد ازاں دبئی سے تعلق رکھنے والی پاکستانی گروپ نے حکومت کو 250 ارب روپے کے واجبات سمیت 125 ارب روپے سے زائد میں خریدنے کی پیشکش ارسال کی تھی۔ تاہم نجکاری بورڈ نے پی آئی اے کی نجکاری کے لئے موصول ہونے والی بولیاں مسترد کردی تھیں، اور قومی ایئرلائن کی نجکاری کے لئے نئی تجاویز پیش کی گئی تھیں جنہیں کابینہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جانا تھا۔








