دہشتگردی سے متعلق قوانین کے حوالے سے بڑا فیصلہ کر لیا گیا
بڑا فیصلہ دہشتگردی سے متعلق قوانین میں تبدیلی
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) دہشتگردی سے متعلق قوانین کے حوالے سے بڑا فیصلہ کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول ہاؤس لاہور کی سیکیورٹی سے متعلق خبروں پرعظمیٰ بخاری کا رد عمل بھی آ گیا
تبدیلیاں اور ان کے مقاصد
تفصیلات کے مطابق پنجاب میں سی آر پی سی، پی پی سی اور قانون شہادت میں دہشت گردی سے متعلق قوانین میں تبدیلیوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ، دہشت گردی سے متعلق کریمنل جسٹس سسٹم میں موجود خامیوں کو دور کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب سی ٹی ڈی کو ان تبدیلیوں کے نفاذ کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوکاڑہ کا ریلوے اسٹیشن اور شہر عام نوعیت کے ہیں، تھوڑا سا آگے کسان نام کا چھوٹا اور غیر اہم سا اسٹیشن آتا ہے، جس کے آس پاس پھلوں کے باغات ہیں
وزیر صوبائی کا بیان
جنگ کے مطابق صوبائی وزیر صہیب بھرتھ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تمام پارلیمانی جماعتوں کو کمیٹی کا ممبر بنایا ہے۔ پنجاب حکومت سنجیدگی سے دہشت گردی کے خاتمے اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل پیرا ہے، عوام کو دہشت گردی سے بچانے اور تحفظ فراہم کرنے کے لئے موثر اقدامات کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان دو طرفہ فارن آفس مشاورت 15 سال بعد بحال
نئے اقدامات
صوبے کے سرحدی علاقوں میں نئی چیک پوسٹیں بنائی جا رہی ہیں۔ سیف سٹی کے کیمرے لگانے کا دائرہ کار پورے صوبے تک پھیلایا جا رہا ہے۔ بارڈر ایریا فورس میں ایک ہزار نئی بھرتیاں کی گئی ہیں۔
پارلیمانی جماعتوں کی حمایت
اس موقع پر صوبائی وزیر چوہدری شافع حسین کا کہنا تھا کہ لیگل ریویو اسٹیئرنگ کمیٹی میں تمام پارلیمانی پارٹیوں کو شامل کرنا قابل ستائش اقدام ہے۔
رکن اسمبلی علی حیدر گیلانی نے کہا کہ پنجاب حکومت کا نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لئے قوانین میں تبدیلی ایک اچھا قدم ہے۔ تمام پارلیمانی جماعتوں کی مکمل سپورٹ پنجاب حکومت کے ساتھ ہے۔








