پنجاب کے سکولز میں خواتین اساتذہ کیلئے شلوار قمیض اور دوپٹہ لازم قرار
نئے ڈریس کوڈ کا نفاذ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب کے سکولز میں خواتین اساتذہ کیلئے شلوارقمیض اور دوپٹہ لازم قرار دے دیا گیا جبکہ مرد اساتذہ کے جینز اور ٹی شرٹ پہننے اور طالبات کے میک اپ لگانے پر پابندی عائد کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مخالف ٹیم کو زیادہ سے زیادہ دوڑانے کی کوشش کی، پاکستان کے خلاف دھواں دار بیٹنگ کرنے والے پلیئر آف دی میچ ایشان کشن کا بیان
ٹیچرز کے لئے ہدایات
محکمہ سکولز ایجوکیشن نے ٹیچرز کیلئے بھی ڈریس کوڈ کے متعلق ہدایات جاری کردیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ دبئی کا سفر کر رہے ہیں؟ یہاں وہ سب کچھ ہے جو آپ کو چوفیر سروسز کے بارے میں جاننا چاہیے
نماز کے انتظامات
محکمہ سکولز ایجوکیشن نے مرد اساتذہ کیلئے جینز اور ٹی شرٹ پہننے پر پابندی عائد کردی، اسی طرح پنجاب کے تمام سرکاری اور پرائیویٹ سکولز میں سکول دورانیے میں نماز ظہر کے انتظامات کرنے کی ہدایت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: وسطی اور جنوبی ایشیا کے ساتھ مستقبل کے اقتصادی انضمام کے لیے پاکستان کا وژن، پرامن بقائے باہمی اور اقتصادی باہمی انحصار پر زور دیا گیا
سندھ حکومت کا کوڈ آف کنڈکٹ
واضح رہے کہ 26 مارچ کو محکمہ تعلیم سندھ نے سکولوں کے اساتذہ کیلئے کوڈ آف کنڈکٹ جاری کرتے ہوئے خواتین اساتذہ کیلئے زیادہ میک اپ، زیادہ زیورات اور اونچی ہیلز پہننا ممنوع قرار دے دیا تھا جبکہ مرد اساتذہ کو بھی جینز، ٹی شرٹ پہننے سے روک دیا تھا۔
کوڈ آف کنڈکٹ کی وضاحت
محکمہ تعلیم سندھ نے سکولوں کے اساتذہ کیلئے کوڈ آف کنڈکٹ جاری کردیا تھا۔
بعد ازاں محکمہ تعلیم سندھ نے ڈریس کوڈ کے حوالے سے میڈیا پر چلنے والی خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ سکولوں میں کسی بھی ڈریس پر پابندی عائد نہیں کی گئی۔
محکمہ تعلیم نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ سکولوں میں کسی بھی ڈریس پر پابندی عائد نہیں کی گئی، اساتذہ کے لیے جاری کوڈ آف کنڈکٹ کو حکم نامہ سمجھنے کے بجائے رہنما اصول سمجھا جائے۔








