پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما فرحت اللّٰہ بابر نے ایف آئی اے سے کونسا ریکارڈ مانگ لیا۔۔؟ تفصیلات جانیے
فرحت اللّٰہ بابر کی ایف آئی اے سے شکایت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما فرحت اللّٰہ بابر نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے شکایت اور الزامات کا ریکارڈ مانگ لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے ساتھ پاکستان کی جنگ، سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی اہلیہ نے دلچسپ کہانی سنادی
ایف آئی اے کا نوٹس
تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے نے شہری کی شکایت پر پی پی رہنما فرحت اللّٰہ بابر کو نوٹس بھیجا تھا۔ اپنے تحریری جواب میں سینئر سیاستدان نے شکایت اور الزامات کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔ ایف آئی اے نے 28 مارچ کو نوٹس کے ذریعے فرحت اللّٰہ بابر کو طلب کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ شہری نے فرحت اللّٰہ بابر پر ٹیکس چوری اور بدعنوانی کے الزامات لگائے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں گرمی کی لہر برقرار، محکمہ موسمیات نے ہیٹ ویو کا نیا الرٹ جاری کر دیا
فرحت اللّٰہ بابر کا موقف
"جنگ" کے مطابق فرحت اللّٰہ بابر نے تحریری جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ جن الزامات کی انکوائری کی جا رہی ہے، اُن سے متعلق ایف آئی اے نوٹس میں فہرست یا دستاویزات نہیں ہیں۔ بنیادی قانونی حقوق کی خلاف ورزی کے باوجود میں طلبی پر ایف آئی اے پیش ہوا، مجھ سے ٹیکس، آمدن اور اثاثہ جات سے متعلقہ دستاویزات جمع کروانے کا کہا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِاعظم کا بنگلہ دیش نیشنل اسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمان سے ٹیلیفونک رابطہ، انتخابی کامیابی پر مبارکباد، دورے کی دعوت
الزامات کی وضاحت
اثاثہ جات کے گوشوارے اور وہ تمام دستاویزات دی جائیں جن کی بنیاد پر شکایت کی گئی ہے۔ میں طویل عرصے سے کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں ہوں، بتایا جائے کون سے عہدے کا ناجائز استعمال کیا گیا۔
انکوائری کی درخواست
فرحت اللّٰہ بابر نے مزید کہا کہ جس انداز میں انکوائری بڑھائی جا رہی ہے، وہ کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ یہ انکوائری ناقابلِ جواز ہے اور اس کے ختم کیے جانے کی درخواست کر رہا ہوں۔








