پاکستانی خاتون نے چین کے پرسکون دیہی علاقے میں کیوں رہائش اختیار کر لی؟ وجہ جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں

دیہاتی زندگی کی جانب منتقل ہونا

تائی یوآن (شِنہوا) دنیا بھر کے متعدد کسانوں کے لیے دیہاتی زندگی کی یکسانیت کو چھوڑ کر شہری مواقع کو اپنانا ایک زندگی بھر کا خواب ہوتا ہے لیکن ایک پاکستانی خاتون مریم جاوید محمد نے اس کے برعکس انتخاب کیا۔ انہوں نے دنیا کے سب سے زیادہ مصروف شہر دبئی کی سہولت کو چھوڑا اور اپنے چینی شوہر کے ساتھ چین کے شمالی علاقے کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں اپنی "دوسری زندگی" شروع کرنے کے لئے منتقل ہوگئیں۔

یہ بھی پڑھیں: 6 ممالک کے سفرا نے صدر مملکت کو اسناد سفارت پیش کر دیں

جدید دیہاتی زندگی کا تجربہ

دبئی میں جوان ہونے والی مریم نے کہا کہ بڑے شہروں کی ہلچل اور شور سے عادی ہونے کے بعد اب مجھے ایک پرامن اور فطرت سے جڑی دیہاتی زندگی کی آرزو ہوئی۔ چین آنے کے بعد ان کا روزمرہ کا معمول مقامی ثقافت سے خود کو روشناس کرانے، علاقائی پکوان پکانے، سیکھنے اور ویڈیوز کے ذریعے گاؤں کی زندگی کو دستاویزی شکل دینے کے گرد گھومتا رہا۔ انہوں نے صرف 2 ماہ میں مختلف سوشل میڈیا پر 50 ہزار سے زیادہ فالوورز بنائے۔

یہ بھی پڑھیں: کوئی ہمیں حکم نہیں دے سکتا کہ ہمیں کیا کرنا ہے، ٹرمپ کے بیان پر کیوبن صدر کا ردعمل

نئے ماحول میں ایڈجسٹمنٹ

مریم نے بتایا کہ میرے شوہر نے چین آنے سے پہلے ہی مجھے اپنے گاؤں سے متعارف کرایا تھا جہاں وہ جوان ہوئے تھے، اس لیے میں نئے ماحول میں خود کو ڈھالنے کے بارے میں زیادہ فکر مند نہیں تھی، جب تک میں ان کے ساتھ ہوں، میں زندگی کے کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی کے ایم پی اے ہاسٹلر میں ایک شخص کرین پر چڑھ گیا، وزیراعلیٰ مریم نواز سے ملنے کا مطالبہ۔

دیہی زندگی کی سہولیات

تاہم مریم کو حیرانی یہ ہوئی کہ وہ چین کے شمالی صوبے شنشی کے شہریون چھنگ کی دیہی زندگی میں کس طرح آرام سے اور بغیر کسی مشکل کے ڈھل گئیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ اب فینگ گاؤں میں رہتی ہیں، جہاں ہر گھر کشادہ، روشن اور جدید سہولیات سے آراستہ ہے۔ کھانے کا تنوع بھی بہت زیادہ ہے، قیمتیں مناسب ہیں اور مقامی بازار تازہ پیداوار سے بھرے پڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی، روس اور برطانیہ نے پاکستان سے متعلق ٹریول ایڈوائزری جاری کردی

سستی قیمتیں اور آن لائن خریداری

مریم نے کہا کہ یہاں ایک تازہ انانس صرف 8 یوآن (تقریباً 1.1 امریکی ڈالر) کا ملتا ہے۔ دبئی میں یہ 5 سے 10 گنا مہنگا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں انہوں نے آن لائن خریداری سیکھی ہے اور حیرت زدہ ہیں کہ کس طرح ترسیل چند دنوں میں ان کے دروازے تک پہنچ جاتی ہے، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ چین کے دیہات میں ترسیل اتنی مؤثر ہو سکتی ہے۔ آپ تقریباً ہر چیز، گھریلو استعمال کی اشیاء، آلات اور کپڑے آن لائن خرید سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل میں ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ پتے میں پتھری ہے، سرجری کیلئے ہسپتال داخل ہوں، شاہ محمود قریشی

ثقافتی ورثہ اور دیہی جشن

چین کی گہری جڑوں کی حامل روایتی ثقافت نے مریم کو سب سے زیادہ متاثر کیا، اس سے قبل اس قدیم مشرقی قوم کے بارے میں ان کا علم ٹیراکوٹا واریئرز اور عظیم دیوار جیسے تاریخی مقامات تک محدود تھا، لیکن رواں سال اپنے پہلے موسم بہار تہوار کے دوران انہوں نے خود دیہاتیوں کو اپنے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے پر گہرے فخر کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بنا کر بلیک میل کرنے والے تین بہن بھائی گرفتار

خاندانی اقدار کی اہمیت

مریم نے تعطیلات کے دوران آتشبازی کرنے، خوش قسمتی کے لیے آلاؤ روشن کرنے، مندر میلوں کی سیر کرنے اور قریبی قصبوں میں متحرک پریڈز میں شرکت کی۔ انہوں نے ان تقریبات کے بارے میں کہا کہ کچھ لوگوں نے ڈریگن رقص کیا، کچھ لوگوں نے بانس پر چل کر کرتب دکھائے، اگرچہ میں ابھی تک اس کی علامت کو پوری طرح نہیں سمجھ پائی ہوں، لیکن ہر کوئی مکمل خوشی سے لبریز اور مکمل طور پر تہوار کے جوش و خروش سے سرشار تھا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی درخواست کردی

عائلتی ثقافت کی گہرائی

جس چیز نے مریم کو سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ہر دیہاتی کے دل میں پیوست گہری "خاندانی ثقافت" تھی۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ ان کا گاؤں ایک بڑے مشترکہ خاندان کی طرح کام کرتا ہے، پڑوسی ایک دوسرے کو گہرائی سے جانتے ہیں، آزادانہ طور پر ملتے جلتے ہیں اور ایک دوسرے کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں۔ مریم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چین منتقل ہونے سے ایسا محسوس ہوا جیسے ایک بڑے خاندان سے دوسرے بڑے خاندان میں منتقل ہو رہی ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ خود 7 بہن بھائیوں کے ایک بڑے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مغوی رکن اسمبلی شدید زخمی حالت میں کھیتوں سے مل گیا، حالت تشویشناک

چین کی ثقافت کا تعارف

دریائے زرد کے وسطی اور زیریں حصوں میں واقع یون چھنگ چینی تہذیب کا گہوارہ ہے جو روایتی، مستند چینی ثقافت کا حامل ہے۔ اس کی بنیاد خاندانی اقدار ہیں، چینی لوگ جہاں بھی جائیں خاندان ان کا سب سے قیمتی بندھن رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 20کلو آٹے کا تھیلا 200روپے سستا ہو گیا

خاندانی تعلقات کی اہمیت

مریم نے کہا کہ جیسا کہ حال ہی میں بلاک بسٹر فلم 'نی جا 2' میں دکھایا گیا ہے جب مرکزی کردار اپنے گاؤں کو تباہ ہوتے دیکھتا ہے تو اس کا غم اور غصہ مجھ سے ہم آہنگ ہوا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ چینی لوگ ہر چیز سے بڑھ کر خاندان کو ترجیح دیتے ہیں۔

مستقبل کے خواب اور زبان کی تعلیم

اب اپنے پہلے بچے کی توقع کرتے ہوئے مریم چینی زبان سیکھنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں، ان کا ارادہ ہے کہ جلد اپنے خاندان کو دیہاتی چین دیکھنے کے لیے مدعو کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ بھی امید کرتی ہوں کہ میری ویڈیوز دنیا کو چینی لوگوں کی حقیقی محبت اور ان کی ثقافت کی دولت دکھا سکیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...