ذہنی معذور متاثرین کا بیان قلمبند کیے بغیر مقدمے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائی کورٹ نے قانونی نکتہ طے کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ذہنی معذور متاثرین کا بیان قلمبند کیے بغیر مقدمے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: سال 2024-25 میں چینی برآمد کرنے والی شوگز ملز کی فہرست منظر عام پر

مقدمہ کی تفصیلات

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے 21 سالہ گونگی، بہری اور ذہنی معذور لڑکی کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزمان کی اپیلوں پر 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ کرتے ہوئے متاثرہ لڑکی کا بیان ریکارڈ کرنے کی ہدایت کردی۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: صلح کیلئے بلائی گئی پنچایت میں جھگڑا ، ایک شخص ہلاک

جسٹس طارق سلیم شیخ کا حکم

جسٹس طارق سلیم شیخ نے فیصلے میں لکھا کہ پراسیکیوشن کے مطابق گونگی بہری اور ذہنی معذور لڑکی سے زیادتی کا مقدمہ 23 اپریل 2022 کو بہاولپور کی مقامی پولیس نے درج کیا اور نومبر 2022 کو ٹرائل کورٹ نے گونگی، بہری اور معذور لڑکی سے زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر ملزم محمد رمضان اور سعید اختر کو عمر قید کی سزا کا حکم سنادیا جس کے بعد ملزمان نے ٹرائل کورٹ کے فیصلوں کی خلاف اپیلیں لاہور ہائیکورٹ میں دائر کردیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ہنر مند محنت کشوں کے لیے ساڑھے 10 ہزار ویزے فراہم کیے جائیں گے، اٹلی نے یقین دہانی کرائی

متاثرہ لڑکی کے بیان کا مسئلہ

فاضل جج نے فیصلے میں لکھا کہ متاثرہ لڑکی کے علاوہ وقوعہ کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے، پراسیکیوشن کے مطابق لڑکی گونگی، بہری اور ذہنی معذور ہے، تفتیشی افسر نے لڑکی کی معذوری کے باعث اس کا بیان ریکارڈ نہیں کیا، دوران ٹرائل پراسیکیوشن نے درخواست دی کہ متاثرہ لڑکی کی گواہی کے لیے ٹیسٹ کرایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب کا دورہ مکمل، اسلام آباد روانہ

ٹرائل کورٹ کا فیصلہ

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے متاثرہ لڑکی کا ٹیسٹ کرایا اور اس نتیجے پر پہنچی کہ لڑکی بیان ریکارڈ کرنے کی اہل نہیں ہے، جبکہ ٹرائل کورٹ لڑکی کے بیان کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنے میں ناکام رہی۔

یہ بھی پڑھیں: اوورسیز نے 31.2 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجی ہیں، 2 سال میں ان پیسوں میں کتنا اضافہ ہوا؟ وزیر خزانہ نے انکشاف کردیا۔

نقصانات اور قانونی نکات

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے ماہر نفسیات یا دیگر ایکسپرٹ کی رائے کے بغیر ہی فیصلہ دے دیا، جو بہت سی خامیوں کا باعث بنتا ہے۔ قانون یہ نہیں کہتا کہ معذور شخص اپنے ساتھ بیتے تجربے کو بیان کرنے کے قابل نہیں، اس لیے عدالتوں کو ماہرین کی خدمات لینی چاہئیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف ملک گیر مظاہروں کا سلسلہ ایک بار پھر زور پکڑ گیا

بین الاقوامی قوانین کا حوالہ

جسٹس طارق سلیم شیخ نے فیصلے میں لکھا ہے کہ ذہنی اور معذور افراد کے حقوق کے لیے بین الاقوامی قوانین بھی موجود ہیں۔ 1948 میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے نے ڈیکلیئریشن جاری کیا کہ سب کے حقوق برابر ہیں، آئین کا آرٹیکل 7 اور 8 قانون تک سب کو برابر کی رسائی کا حق دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ترکی کا امریکی میزائلوں کا متبادل، فضا سے فضا میں مار کرنے والے “گوک توغ” میزائلوں کے کامیاب تجربات

قانونی کارروائی کا تسلسل

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ٹرائل کورٹ کو متاثرہ خاتون کو دوبارہ طلب کرنا چاہیے، اور ماہرین کی رائے میں متاثرہ لڑکی کے بیان کے لیے متبادل انتظامات کرے۔ اگر متاثرہ لڑکی کا بیان ہو جاتا ہے تو ٹرائل کورٹ معاملے کو دوبارہ قانون کے مطابق دیکھے۔

عدالتی حکم کی تنائج

بعدازاں عدالت نے ملزم محمد رمضان اور سعید اختر کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے کر ٹرائل کورٹ کو متاثرہ لڑکی کا بیان قلمبند کرکے دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...