پولیس نے بہت مارا اور کہا منہ بند کرو، جواباً کہا مار دو، جنت میں ہی جاوں گا: کامران قریشی
کراچی: مصطفیٰ عامر قتل کیس
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان قریشی کے والد کامران قریشی نے بیان دیا ہے کہ پولیس نے مجھے بہت مارا اور کہا کہ اپنا منہ بند کرو اور میڈیا سے بات مت کرو۔ انہوں نے جواب میں کہا، "ماردو، جنت میں ہی جاوں گا۔"
یہ بھی پڑھیں: آبی جنگ بھی چھڑ گئی۔۔۔پاکستان جواب اور دفاع کیلئے تیار۔۔۔ بھارت کا پانی بھی رک سکتا ہے ۔۔ بھارتی فوج پر بھی سوالات اٹھنے لگے
سماعت کا پس منظر
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، سینٹرل جیل کراچی میں جوڈیشل کمپلیکس میں غیر قانونی اسلحہ اور منشیات برآمدگی کیس کی سماعت کی گئی، جس میں مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان کے والد، کامران قریشی کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا پیپلز سیکرٹریٹ کے سابق انچارج سید ابن رضوی کے انتقال پر اظہار تعزیت
عدالتی کارروائی
جوڈیشل مجسٹریٹ شہزاد خواجہ کی عدالت میں سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے تفتیشی افسر کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ نہ تو تفتیشی افسر پیش ہوئے اور نہ ہی چالان پیش کیا گیا، جس پر تفتیشی افسر کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پوری امید ہے جنگ نہیں ہوگی، اگر ہوئی تو مردوں کی ہوگی: شیخ رشید
وکیل صفائی کا بیان
وکیل صفائی خرم عباس اعوان نے کہا کہ ملزم کامران قریشی کی گرفتاری 20 مارچ کو ظاہر کی گئی، حالانکہ وہ 16 مارچ کو گرفتار ہوئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے ایف آئی اے کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سستی بجلی کی فراہمی کیلئے مسابقتی مارکیٹ قائم کرنے کا وقت آگیا، وزیر توانائی اویس لغاری
جج کا حکم
جج شہزاد خواجہ نے ہدایت کی کہ آپ متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔ وکیل صفائی نے کہا کہ میں عدالت کو صرف اطلاعی درخواست دے رہا ہوں اور مجھے حراست میں لینے کی دھمکیاں دی گئی ہیں، اس لیے میں اپنے موکل سے متعلق معلومات کیسے دے سکتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم کا معاملہ: تحریک انصاف نے مولانا فضل الرحمٰن کو کیا اختیارات دیے؟ صالح ظافر کا اہم انکشاف
ایف آئی اے کی کارروائی
عدالت میں ایف آئی اے کے حکام بھی پیش ہوئے، جنہوں نے ملزم کامران قریشی کے فزیکل ریمانڈ کی درخواست دائر کی اور موقف اپنایا کہ انہیں انٹیروگیٹ کرنا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پہلے آپ متعلقہ عدالت سے این او سی لے کر آئیں، اس کے ساتھ ہی سماعت کو 16 اپریل تک ملتوی کر دیا گیا۔
کامران قریشی کا میڈیا سے گفتگو
سماعت کے بعد، میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کامران قریشی نے کہا کہ پولیس نے مجھے بہت مارا اور کہا کہ اپنا منہ بند کرو اور میڈیا سے بات مت کرو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے پولیس کو کہا کہ مجھے ماردو، میں تو جنت میں ہی جاوں گا۔








