پولیس نے بہت مارا اور کہا منہ بند کرو، جواباً کہا مار دو، جنت میں ہی جاوں گا: کامران قریشی

کراچی: مصطفیٰ عامر قتل کیس

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان قریشی کے والد کامران قریشی نے بیان دیا ہے کہ پولیس نے مجھے بہت مارا اور کہا کہ اپنا منہ بند کرو اور میڈیا سے بات مت کرو۔ انہوں نے جواب میں کہا، "ماردو، جنت میں ہی جاوں گا۔"

یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے مینجنگ ڈائریکٹر افضال بھٹی رواں ماہ سعودی عرب کا دورہ کریں گے

سماعت کا پس منظر

نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، سینٹرل جیل کراچی میں جوڈیشل کمپلیکس میں غیر قانونی اسلحہ اور منشیات برآمدگی کیس کی سماعت کی گئی، جس میں مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان کے والد، کامران قریشی کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: 9مئی اور 26 نومبر کو ایک طرف رکھ کر معاملات آگے بڑھنے چاہئیں، قمر زمان کائرہ

عدالتی کارروائی

جوڈیشل مجسٹریٹ شہزاد خواجہ کی عدالت میں سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے تفتیشی افسر کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ نہ تو تفتیشی افسر پیش ہوئے اور نہ ہی چالان پیش کیا گیا، جس پر تفتیشی افسر کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: اگر پی ٹی آئی نے کچھ ٹھان لیا ہے تو دوسری طرف سے بھی گورنر راج کی ٹھان لی گئی ہے: سینیٹر فیصل واوڈا

وکیل صفائی کا بیان

وکیل صفائی خرم عباس اعوان نے کہا کہ ملزم کامران قریشی کی گرفتاری 20 مارچ کو ظاہر کی گئی، حالانکہ وہ 16 مارچ کو گرفتار ہوئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے ایف آئی اے کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شہادت کی خبریں جھوٹی نکلیں، علی شمخانی کی حالت مستحکم، بیان بھی جاری کردیا

جج کا حکم

جج شہزاد خواجہ نے ہدایت کی کہ آپ متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔ وکیل صفائی نے کہا کہ میں عدالت کو صرف اطلاعی درخواست دے رہا ہوں اور مجھے حراست میں لینے کی دھمکیاں دی گئی ہیں، اس لیے میں اپنے موکل سے متعلق معلومات کیسے دے سکتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی شہریوں کو نوکری پر رکھنا بند کرو، امریکی صدر کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ہدایت

ایف آئی اے کی کارروائی

عدالت میں ایف آئی اے کے حکام بھی پیش ہوئے، جنہوں نے ملزم کامران قریشی کے فزیکل ریمانڈ کی درخواست دائر کی اور موقف اپنایا کہ انہیں انٹیروگیٹ کرنا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پہلے آپ متعلقہ عدالت سے این او سی لے کر آئیں، اس کے ساتھ ہی سماعت کو 16 اپریل تک ملتوی کر دیا گیا۔

کامران قریشی کا میڈیا سے گفتگو

سماعت کے بعد، میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کامران قریشی نے کہا کہ پولیس نے مجھے بہت مارا اور کہا کہ اپنا منہ بند کرو اور میڈیا سے بات مت کرو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے پولیس کو کہا کہ مجھے ماردو، میں تو جنت میں ہی جاوں گا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...