ریمارکس،خواہ تنقیدی ہوں یا تعریفی،مستقبل میں کسی فورم پر حتمی یا لازم نہ سمجھے جائیں، سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ ریمارکس، خواہ تنقیدی ہوں یا تعریفی، مستقبل میں کسی فورم پر حتمی یا لازم نہ سمجھے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: نتاشا کی شوبز دُنیا میں واپسی: ہاردک پانڈیا سے طلاق کے بعد کی کہانی
پنجاب حکومت کی درخواست مسترد
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے سانحہ 9 مئی مقدمات کی دوسرے جج کو منتقلی کی پنجاب حکومت کی درخواست مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلہ چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی نے جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیمبوں اور مرچ لگا کر پوجا کیے گئے ایئرکرافٹس کتنی بار اُڑے؟
چیف جسٹس کے ریمارکس کی وضاحت
تحریری فیصلے کے مطابق ریاستی اہلکاروں کے طرز عمل پر چیف جسٹس ہائی کورٹ کے ریمارکس انتظامی دائرہ اختیار میں آتے ہیں، تاہم تبصرے ذاتی نوعیت کے ہوں تو وہ آئندہ کارروائیوں پر اثرانداز نہیں ہوں گے۔ ریمارکس، خواہ تنقیدی ہوں یا تعریفی، مستقبل میں کسی فورم پر حتمی یا لازم نہ سمجھے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے ملک میں موجود پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کو تسلی بخش قرار دے دیا
سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا دفاع
سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد کے فیصلے اور اقدامات کو درست قرار دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو آرٹیکل 203 کے تحت عدالتی افسروں کو انتظامی مداخلت سے بچانے کا آئینی اختیار حاصل تھا۔ کسی صوبے میں ہائی کورٹ کا چیف جسٹس اس صوبے میں عدلیہ کے سربراہ کا درجہ رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راہول گاندھی بھارتی فوج میں بھرتی سکیم ’’اگنی ویر‘‘ پر کھل کر بول پڑے، مودی کو کھری کھری سنا دیں
ریفرنس اور مقدمات کا جائزہ
فیصلے کے مطابق صوبائی چیف جسٹس جوڈیشل افسران کی شکایات پر کوئی کارروائی نہ کرنا اس کی آئینی ذمہ داریوں کے منافی ہوگا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کے خلاف ریفرنس ناکافی شواہد کی بنا پر مسترد کیا گیا۔ عدالت نے مقدمات منتقلی کی درخواست شواہد کی کمی کے باعث مسترد کی۔
یہ بھی پڑھیں: مشاہد حسین سید نے ٹرمپ کے 2026 کے الیکشن ہارنے کی پیشگوئی کردی
تحقیقات میں تعصب کا الزام
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ریاستی اہلکاروں کے طرز عمل پر چیف جسٹس ہائی کورٹ کے ریمارکس انتظامی دائرہ اختیار میں آتے ہیں، تبصرے ذاتی نوعیت کے ہوں تو وہ آئندہ کارروائیوں پر اثرانداز نہیں ہوں گے۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج پر تعصب کا الزام ثابت نہ ہو سکا، ایڈمنسٹریٹو جج نے ریفرنس مسترد کر دیا۔
پنجاب حکومت کا چیلنج
واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے سابق اے ٹی سی جج راولپنڈی اعجاز آصف کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ نے ریفرنس اور مقدمہ منتقلی کی درخواست خارج کر دی تھی۔ پنجاب حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا。








