ایران کی آئی اے ای اے کے نمائندے کو ملک سے نکالنے کی دھمکی
ایران کی دھمکی
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے نمائندے کو ملک سے نکالنے کی دھمکی دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دوست ممالک کے دورے: وزیراعظم ایران کے بعد آذربائیجان پہنچ گئے۔
علی شمخانی کا بیان
نجی ٹی وی جیو نیوز نے عرب میڈیا رپورٹس کے حوالے سے بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ کے سینئر مشیر ریئر ایڈمرل علی شمخانی کا کہنا ہے کہ بیرونی دھمکیوں کے پیش نظر وہ آئی اے ای اے کے نگران کو ملک سے نکال سکتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ افزودہ مواد کی لوکیشن کو محفوظ بنانے کے لئے بھی سوچا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: میٹروپولیٹن کارپوریشن کے افسران کی غنڈہ گردی بے نقاب، پیسے نہیں ہیں تو سامان بھی واپس نہیں ملے گا! حالات سے تنگ نوجوان رونے لگا
امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات
ایران کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلامی جمہوریہ کی وزارت خارجہ کی جانب سے عمان میں امریکی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی تصدیق کی گئی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کو تہران کے فیصلے کو سراہنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت پھر بڑھ گئی، 900روپے کا اضافہ
امریکی وزارت خارجہ کا ردعمل
دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ٹیمی بروس نے ایران کو کسی بھی قسم کا غلط قدم اٹھانے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے اس قسم کی دھمکی بلا شبہ تہران کے پرامن جوہری پروگرام کے دعوے کی نفی ہے۔ ایران کی جانب سے آئی اے ای اے کے نمائندے کو نکالا جانا اشتعال انگیزی کو مزید ہوا دے گا۔
تعلقات کی تاریخی تناظر
خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات فروری میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر جوہری توانائی کے لئے مذاکرات دوبارہ کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھانے کے بیان کے بعد سامنے آیا۔ پھر دو روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاہدے پر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے تو ایران کے خلاف فوجی آپریشن بھی ہو سکتا ہے جس میں اسرائیل کا بھی اہم کردار ہو گا۔








