چین نے بھی امریکی مصنوعات پر 125 فیصد محصولات عائد کردیے
چین کی نئی تجارتی حکمت عملی
بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن) چین نے کہا ہے کہ وہ امریکی مصنوعات پر محصولات کو بڑھا کر 125 فیصد کر دے گا تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید محصولات کو نظر انداز کر دے گا کیونکہ درآمد کنندگان کے لئے اب امریکا سے خریداری کا کوئی معاشی مقصد نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر کے 47 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق
ٹرمپ کی بدمعاشی کا جواب
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق، دنیا کی دو بڑی معیشتوں کی جانب سے تجارتی رکاوٹیں کھڑی کرنے کے ایک ہفتے کے بعد بیجنگ نے ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی بدمعاشی کو ’مذاق‘ اور ’اعداد و شمار کا کھیل‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کا کینسر اور دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں کے علاج کیلئے ’وزیراعلیٰ سپیشل اینیشیٹو کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ
امریکا کا الزام
چین نے ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے دنیا کو متاثر کرنے والے محصولات کے ذریعے مارکیٹ میں افراتفری پیدا کی ہے اور کہا ہے کہ امریکا کو افراتفری کی پوری ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بنگلہ دیش کے بہتر ہوتے تعلقات سے دونوں ممالک کے طلبہ کو کیا فوائد ملے؟
ٹرمپ کی عالمی تجارتی پالیسی
ٹرمپ نے دنیا بھر کے ممالک پر بھاری محصولات عائد کئے ہیں، جن میں درجنوں بڑی معیشتوں کے لئے تکلیف دہ حد تک زیادہ محصولات شامل ہیں تاکہ مینوفیکچررز کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ امریکا میں اپنے کارخانے قائم کریں اور ممالک کو امریکی مصنوعات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنے پر مجبور کریں۔
یہ بھی پڑھیں: مودی آسمان سے گرا، کھجور میں اٹکا، چین نے پورے زنگ نان اروناچل پردیش کو چین کا حصہ قرار دے دیا
مارکیٹ میں ہلچل
لیکن رواں ہفتے مارکیٹ میں ہلچل کے بعد انہوں نے جنگ کے بعد عالمی تجارت کے نظام کو از سر نو ترتیب دینے پر زور دیا اور بہت سے محصولات کو 90 دنوں کے لئے منجمد کر دیا، حالانکہ انہوں نے چین کے لئے یہ محصولات بڑھا کر مجموعی طور پر 145 فیصد کر دیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: فری لانسرز کیلئے خوشخبری، وی پی این رجسٹریشن کا انتہائی آسان طریقہ سامنے آگیا
چینی وزارت خزانہ کا بیان
بیجنگ کی جانب سے جوابی کارروائی کے تازہ ترین مرحلے کے بعد اس کی محصولات 125 فیصد تک پہنچ گئی ہیں، جس کا اطلاق ہفتے کے روز ہوگا۔ تاہم چینی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے مزید اقدامات کو نظر انداز کیا جائے گا کیونکہ موجودہ ٹیرف کی سطح پر چین کو برآمد کی جانے والی امریکی مصنوعات کی مارکیٹ میں قبولیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی کی نجکاری، دیر آیا درست آیا۔ اس پر حکومت کریڈٹ نہیں، قوم سے معافی مانگے، مزمل اسلم
اعداد و شمار کا کھیل
بیجنگ کی وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے چین پر غیر معمولی طور پر زیادہ محصولات عائد کرنا اعداد و شمار کا کھیل بن گیا ہے جس کی معاشیات میں کوئی عملی اہمیت نہیں ہے۔
چین کا ردعمل
ایک ترجمان نے کہا کہ ’اگر امریکا نے محصولات کا نمبر گیم جاری رکھا تو چین اسے نظرانداز کرے گا‘، بیجنگ نے مزید کہا ہے کہ وہ نئی امریکی محصولات کے خلاف ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں مقدمہ دائر کرے گا۔








