جاپان نے مختصر وقت میں پہلا 3ڈی ریلوے اسٹیشن تعمیر کرلیا
جاپان میں ریلوے اسٹیشن کی حیرت انگیز تعمیر
ٹوکیو (آئی این پی) ویسٹ جاپان ریلوے کمپنی نے صرف 6 گھنٹے کے دوران ایک ریلوے سٹیشن تعمیر کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: علمائے کرام نے شہریوں، مزدوروں، مسافروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل کو حرام قرار دے دیا
دنیا کا پہلا 3 ڈی پرنٹر شدہ ریلوے اسٹیشن
میڈیارپورٹ کے مطابق جاپانی ریلوے کمپنی نے یہ حیرت انگیز کام 3 ڈی پرنٹنگ سے ممکن بنایا، یہ دنیا کا پہلا 3 ڈی ریلوے اسٹیشن ہے جو جاپان کے علاقے اریڈا میں تعمیر کیا گیا۔ واضح رہے کہ اس جگہ 1948 سے لکڑی سے بنا ایک سٹیشن موجود تھا جس کو 3 ڈی پرنٹڈ ریلوے سٹیشن سے بدلا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کہتے ہیں انگریز بہت دور کی سوچتا ہے، پْلوں کی تعمیر کا کام جاری ہی تھا کہ ریل گاڑیوں کی بوگیوں اور اسٹیم انجنوں کو ہندوستان پہنچانا شروع کردیا۔
نئے ہاتسوشیما سٹیشن کی تفصیلات
نیا ہاتسوشیما سٹیشن روزانہ 530 مسافروں کی میزبانی کرتا ہے اور یہاں ہر گھنٹے ایک سے 3 ٹرینیں گزرتی ہیں۔ اس سٹیشن کیلئے 3 ڈی پرنٹر سے مختلف حصوں کو تیار کیا گیا جن کو فیکٹری سے اریڈا منتقل کیا گیا، پرنٹنگ کے عمل میں 7 دن لگے اور جب ریلوے سٹیشن کے مختلف حصوں کو مکمل کر دیا گیا تو انہیں 24 مارچ کی شام تعمیراتی مقام پر پہنچا دیا گیا۔ سیرینڈکس نامی کمپنی نے پرنٹنگ کا عمل مکمل کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں بھی بین الاقوامی فوڈ چین پر حملہ ، چار ملزمان گرفتار
روایتی تعمیر کے مقابلے میں 3 ڈی پرنٹنگ کے فوائد
اس کے شریک بانی کونی ہیرو ہانڈانے بتایا کہ روایتی طریقے سے ریلوے سٹیشن کی تعمیر کافی سست روی سے ہوتی ہے اور یہ کام مشکل بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روایتی طریقے سے تعمیر کو مکمل کرنے میں متعدد مہینے لگ جاتے ہیں مگر 3 ڈی پرنٹنگ نے تعمیراتی کام کو برق رفتار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کل کے جلسے میں کیا ہوا اور کیوں ہوا۔۔۔؟ پی ٹی آئی پشاور کے صدر کا ردعمل بھی آ گیا
تعمیراتی عمل کا اختتام
24 مارچ کی شب 11 بج کر 57 منٹ پر جب آخری ٹرین سٹیشن سے گزری تو ٹرک وہاں پہنچے اور مقامی افراد نے 3 ڈی پرنٹر سے تیار کردہ حصوں کو آپس میں جوڑ دیا۔ تاہم ابھی بھی یہ سٹیشن مسافروں کیلئے مکمل طور پر تیار نہیں، ٹکٹ مشینیں اور آئی ڈی کارڈ ریڈرز کی تنصیب باقی ہے۔
تعمیراتی وقت میں کمی اور لاگت کی بچت
ریلوے کمپنی کا کہنا ہے کہ 3 ڈی پرنٹر کی بدولت تعمیراتی کام کے دورانیے میں کئی ماہ کی بچت ہوئی جبکہ یہ طریقہ کار روایتی طریقے سے دوگنا سستا ثابت ہوا۔








