پاکستانیوں کا قتل؛ ثابت ہوا کہ بلوچ دہشتگرد تنظیموں کی ایران میں محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں
ہندوستان سِیستان: 8 پاکستانی شہریوں کا بہیمانہ قتل
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے سرحدی صوبے سیستان کے ضلع مہرستان میں 8 پاکستانی شہریوں کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا، جو ایران میں روزگار کے سلسلے میں مقیم تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے قونصلیٹ جنرل، بارسلونا کی طرف سے کرسمس تقریب کا انعقاد
مقتولین کی شناخت
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق جاں بحق 8 افراد میں سے پانچ کی شناخت دلشاد، ان کے بیٹے نعیم اور دیگر تین نوجوانوں جعفر، دانش اور ناصر کے نام سے ہوئی ہے۔ دلشاد ایک مرمت کی دکان کے مالک تھے، جہاں تمام مقتولین کام اور قیام دونوں کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیر جلد آزادی کی نئی صبح دیکھےگا، فیلڈ مارشل عاصم منیر
حملے کی تفصیلات
اطلاعات کے مطابق ”حملہ آور رات کے وقت دکان میں داخل ہوئے، مقتولین کے ہاتھ پاو¿ں باندھے اور انہیں بے دردی سے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔“ ایرا ن میں 8 معصوم پاکستانیوں کے بے دردی سے قتل نے ایرانی سکیورٹی پر بڑے سوالات اٹھا دیے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فوج کی یمن پر بمباری
تشویش ناک صورتحال
یہ قتل عام کسی عمومی واردات کا حصہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا دہشت گردانہ حملہ تھا اور اس طرح کے بہیمانہ قتل میں بلوچ دہشت گرد تنظیمیں ملوِّث ہیں۔ اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ بلوچ دہشتگرد تنظیموں کی ایران میں محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یحییٰ سنوار کی موت والا صوفہ میری ماں کا دیا ہوا ہے: وہ گھر جہاں اسرائیل نے حماس کے سربراہ کو ہلاک کیا
سابقہ واقعات
گزشتہ سال جنوری میں بھی صوبہ سیستان میں دہشت گردوں نے حملہ کرکے متعدد پاکستانی مزدوروں کو جاں بحق کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ پاکستان نے آپریشن مرگ بر سرمچار میں ایران میں موجود دہشت گردوں کو نشانہ بنا کر جہنم واصل کیا تھا، یہ دردناک واقعہ ثابت کرتا ہے کہ ایران دہشت گردوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غنیٰ علی نے کم عمر میں جلد شادی کو کیوں ترجیح دی؟
دفاعی تجزیہ کاروں کا مؤقف
پاکستانی شہریوں کی اس انداز سے قتل کی دردناک واردات نے ثابت کر دیا کہ بلوچ دہشتگرد تنظیمیں ایران میں مکمل طور پر متحرک ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں نے ایران میں اس قتل کے واقعے کو ایران کی ناکام اور مخدوش سکیورٹی صورتحال قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 28 مارچ کو رات ساڑھے 8 سے ساڑھے 9 بجے تک غیر ضروری لائٹس بند کی جائیں گی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں “ارتھ آور” منانے کا اعلان کردیا۔
انسانی حقوق کی خاموشی
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران میں ہونے والے اس قتل کے واقعے پر نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار خاموش ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ ”کیا انسانی حقوق کے ان علمبرداروں کو ایران میں ہونے والے واقعے کی مذمت نہیں کرنی چاہئے؟“
سکیورٹی کی فکر
دفاعی ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر خدانخوانستہ یہی واقعہ پاکستان میں پیش آتا تو یہ لوگ اور قوم پرست تنظیمیں ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے میں دیر نہ کرتے، کیا پاکستانی شہریوں کا خون اتنا سستا ہے کہ ایران کو غیر ملکی مقیم باشندوں کی سکیورٹی کی فکر نہیں؟








