آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے امریکی وفد کی ملاقات، آئی ٹی کے شعبے میں تعاون کے ایم او یوز پر دستخط
ملاقات کا آغاز
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے امریکی کانگریس کے وفد نے ملاقات کی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے لبنان میں فضائی حملے ، 5 ہیلتھ ورکر جاں بحق
وفد کی تفصیلات
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی آئی ایس پی آر) کے مطابق کانگریس کے وفد نے جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت جیک برگمین کر رہے تھے جبکہ تھامس سوزی اور معزز جوناتھن جیکسن بھی وفد میں شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک حالتِ جنگ میں ہے، افغانستان کیساتھ باقاعدہ لڑائی جاری ہے: طلال چودھری
ملاقات کے نکات
ملاقات میں باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون پر زور دیا گیا۔ دونوں فریقین نے باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور اسٹریٹجک مفادات کی بنیاد پر مسلسل رابطے کی اہمیت کو دہرایا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کی بچیاں یا تو بچے پیدا کررہی ہیں یا بندوقیں اٹھا رہی ہیں، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری
تربیتی تعاون کے معاہدے
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تربیتی تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو ممکنہ سیلاب کے خطرے سے آگاہ کر دیا
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ امریکی ارکانِ کانگریس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کلیدی کردار کو سراہا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کا اعتراف کیا۔ امریکی کانگریس کے وفد نے پاکستانی قوم کی ثابت قدمی اور اس کے اسٹریٹجک پوٹینشل کی بھی تعریف کی۔

یہ بھی پڑھیں: اپنے بھائی عباس عراقچی کی پاکستان سے متعلق وضاحت کا خیر مقدم کرتا ہوں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار
پاکستان کی خودمختاری کا احترام
امریکی وفد نے پاکستان کی خودمختاری کے لیے اپنے احترام کا اظہار کرتے ہوئے سیکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے شعبوں میں وسیع البنیاد دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
آرمی چیف کا پیغام
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے وفد کے دورے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ دیرینہ شراکت داری کو مزید مستحکم اور متنوع بنانے کا خواہاں ہے۔ یہ تعلقات باہمی مفادات اور قومی خودمختاری کے احترام پر مبنی ہوں۔








